Politics
کے پی اسمبلی میں مریم نواز کے خلاف آرٹیکل 6 کی قرارداد منظور
خیبر پختونخوا اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے متنازع بیان کے خلاف اکثریت سے قرارداد منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایوان میں حکومتی اراکین کا کہنا تھا کہ اس بیان سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا اور صوبوں کے درمیان نفرت پھیلی ہے۔
پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی نے روز مرہ کا ایجنڈا معطل کرتے ہوئے جمعہ کے روز کثرت رائے سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی نے اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پیش کی۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ بیان کہ 'پنجاب کو پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پڑوسی صوبوں سے زیادہ سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں' قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے صوبوں کے درمیان نفرت پھیلتی ہے اور وفاق کمزور ہوتا ہے۔ اجلاس کے دوران صوبائی وزیر ہاؤسنگ امجد علی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا بیان کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے صوبے کے خلاف ہے، جو انتہائی شرمناک اور توہین آمیز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے ریاست کا بیانیہ کمزور ہوا ہے کیونکہ ریاست پچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی کے معاملے پر بھارت کی طرف انگلی اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مریم نواز کو ایوان میں آ کر اپنے اس بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔ دوسری جانب، مسلم لیگ ن کی رکن آمنہ سردار نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے اپنے بیان میں کبھی بھی پشتونوں کا نام نہیں لیا اور حکومتی بنچوں کے ارکان جان بوجھ کر اس معاملے کو غلط رنگ دے رہے ہیں اور نفرتیں پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مریم نواز کے بیان کو غلط طریقے سے پڑھا اور پیش کیا جا رہا ہے تاکہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران ایوان میں مختلف ملکی اداروں کے آئینی حلف اور موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی بحث کی گئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھرپور حصہ لیا۔