Technology
یمن میں میزائل تیاری کے لیے کلاؤڈ اے آئی کا استعمال، اینتھروپک کا انکشاف
امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ یمن میں ایک گروپ نے میزائل اور گائیڈڈ راکٹ بنانے کے لیے کلاؤڈ چیٹ بوٹ کا استعمال کیا۔ کمپنی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث اکاؤنٹس پر پابندی عائد کر دی ہے۔
امریکی مصنوعی ذہانت کی معروف فرم اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ یمن میں سرگرم ایک گروپ نے کلاؤڈ چیٹ بوٹ کو رہنمائی حاصل کرنے اور میزائل منصوبوں کی تیاری کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کمپنی نے بتایا کہ انہوں نے شمالی یمن میں ایک خطرے سے دوچار سیل کی نشاندہی کی ہے جو اسلحے کی تیاری کے تین مختلف پروگرام چلا رہا تھا۔ ان پروگراموں میں ایک گائیڈڈ راکٹ، ایک دو ہزار کلومیٹر سے زائد رینج والا ملٹی اسٹیج بیلسٹک میزائل اور ایک ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل کی اقسام شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق اس سیل نے ہوائی ہتھیاروں کے لیے گائیڈنس، نیویگیشن اور کنٹرول سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے کلاؤڈ کا سہارا لیا، جس کے لیے عام طور پر ماہرین انجینئرز کی ایک پوری ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اینتھروپک نے واضح کیا کہ اگرچہ ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ گروپ کوئی فعال آلہ تیار کرنے میں کامیاب رہا ہو، تاہم انہوں نے ایک گائیڈڈ راکٹ کا تجرباتی فائر ضرور کیا تھا۔ یہ فیلڈ ٹیسٹ ناکام ہو گیا تھا جس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ان افراد نے دوبارہ کلاؤڈ کا رخ کیا تاکہ ناکامی کی وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے۔
کمپنی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کا پتہ چلتے ہی انہوں نے متعلقہ اکاؤنٹس پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی۔ اگرچہ کمپنی نے براہ راست کسی عسکریت پسند گروپ کا نام نہیں لیا، لیکن شمالی یمن کے بیشتر حصوں پر حوثی فورز کا کنٹرول ہے جو اس وقت خطے میں اہم اسٹریٹجک مقامات پر اپنی کارروائیاں تیز کیے ہوئے ہیں۔ اس انکشاف نے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور اس کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس کے علاوہ اینتھروپک کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انہوں نے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری اور یوکرین کے خلاف روس سے جڑے ممکنہ سائبر جاسوسی کے حملوں کو بھی ناکام بنایا ہے۔ کمپنی کے محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی مستقبل میں انسانی نسل کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے، جس کے پیش نظر اے آئی کے ضابطہ اخلاق کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔