Pakistan
ارکان پارلیمنٹ سے بدسلوکی، پی آئی اے اور اے ایس ایف عملے پر ایکشن
سینیٹ کی قواعد و ضوابط اور استحقاق کمیٹی نے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات پر پی آئی اے اور اے ایس ایف کے عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اس طرح کا رویہ سرکاری اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اسلام آباد میں سینیٹ کی قواعد و ضوابط اور استحقاق کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس کی صدارت سینیٹر سید وقار مہدی نے کی۔ اجلاس کے دوران پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے عملے کی جانب سے سینیٹرز کے ساتھ مبینہ بدسلوکی سے متعلق تین تحریک استحقاق پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ غیر مناسب رویہ ملک اور اداروں کی بدنامی کا باعث بنتا ہے۔
اجلاس کے دوران سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک استحقاق پر بھی غور کیا گیا، جو 7 فروری 2026 کو کوئٹہ سے اسلام آباد جانے والی پرواز پی کے 326 کے دوران پی آئی اے کے کیبن عملے کے مبینہ غیر مناسب رویے سے متعلق تھی۔ سینیٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ بارہا سفارش کے باوجود کسی متعلقہ پی آئی اے حکام نے ان سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی معافی مانگی، جس پر کمیٹی نے ضابطے کے مطابق محکمانہ کارروائی کی سفارش کی۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر وقار مہدی نے اس موقع پر ملتان ایئرپورٹ پر مبینہ سگریٹ اسمگلنگ کی سوشل میڈیا رپورٹ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ایسے واقعات قومی ائیرلائن کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
علاوہ ازیں، کمیٹی نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی تحریک استحقاق کا بھی جائزہ لیا جس میں انہوں نے 24 جولائی 2026 کو لندن جانے والی پرواز کے دوران چیک ان کے موقع پر اے ایس ایف کے اہلکاروں کی طرف سے مبینہ بدسلوکی کی شکایت کی تھی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بتایا کہ تلاشی اور غیر ملکی کرنسی کے معاملے پر ڈیوٹی پر مامور اہلکار نے نامناسب رویہ اختیار کیا اور ان کی بات سننے سے گریز کیا۔ اجلاس میں موجود اے ایس ایف کے ایک سینئر افسر نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور غیر مشروط معافی مانگی، جبکہ یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو پاکستان کسٹمز اور متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
کمیٹی نے اے ایس ایف کے عملے کو عوامی رابطے اور اچھے رویے کے حوالے سے خصوصی تربیت دینے کی بھی سفارش کی۔ سینیٹ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ اس پورے معاملے کی جامع انکوائری پندرہ روز کے اندر مکمل کی جائے اور ذمہ دار اہلکار کو آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے واضح کیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی سطح پر عوام یا عوامی نمائندوں کے ساتھ ناروا سلوک کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔