Politics
جے یو آئی ف کی پی ٹی آئی کی اپوزیشن کانفرنس میں شرکت کی تصدیق
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بلائی جانے والی تمام جماعتی اپوزیشن کانفرنس میں شرکت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی ف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں قومی امور پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات کے نتیجے میں جے یو آئی ف نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت بلائی جانے والی تمام جماعتی کانفرنس (ایم پی سی) میں شرکت کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک وفد نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی قیادت میں جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا، جہاں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ملکی سیاسی صورتحال اور اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد حکومت کے خلاف مشترکہ اپوزیشن لائحہ عمل کو تشکیل دینا اور پارلیمنٹ کے اندر و باہر باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں گی اور تمام سیاسی قوتوں کو قومی ایشوز پر اعتماد میں لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام سمیت اہم معاملات پر غور کرنے کے لیے جلد ہی ایک بڑی اپوزیشن کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ پی ٹی آئی کے وفد میں سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی شامل تھے۔ دوسری جانب، جے یو آئی ف کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بے چینی کی لہر پائی جاتی ہے اور ملک بھر کے عوام شدید مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے تحت ہونے والی اس ملاقات میں آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے پر زور دیا گیا۔ اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط بنانے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام ہم خیال سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ دریں اثنا، اپوزیشن رہنماؤں کی آئندہ کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے آنے والے دنوں میں مزید اہم مشاورتی اجلاس بھی متوقع ہیں، جن میں کانفرنس کی تاریخ اور ایجنڈے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔