Politics
صوبائی حدود میں ردوبدل: بلاول بھٹو کا اہم بیان اور سیاسی صورتحال
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ صوبائی حدود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی عوام کی مرضی کے بغیر قبول نہیں کی جائے گی۔ ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور پارلیمانی مباحثے کے حوالے سے سیاسی ہلچل میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ ملک میں صوبائی حدود میں عوام کی رضامندی کے بغیر ردوبدل کرنے کی کوئی بھی کوشش ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ حالیہ دنوں میں ملک کے اندر نئے صوبوں کے قیام اور اس سے جڑے انتظامی امور پر بحث نے زور پکڑا ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں گرما گرمی دیکھی جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی ایک اہم بحث کا محور بنے گا۔دوسری جانب وفاقی وزیر محسن نقوی اور دیگر سیاسی شخصیات کے درمیان اس موضوع پر بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ پارلیمنٹ میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایک تفصیلی مباحثہ منعقد کیے جانے کا امکان ہے، جہاں تمام جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کا دفاع کریں گی۔ ایک طرف جہاں بہتر گورننس کے لیے نئے صوبے بنانے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، وہیں دوسری طرف بعض حلقوں بالخصوص سندھ میں اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔عوامی اور سیاسی سطح پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا صوبائی خود مختاری اور انتظامی بہتری کے لیے نئے صوبے ناگزیر ہیں یا نہیں۔ سندھ کے مختلف علاقوں میں عوام اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بہتر گورننس اور عوامی مسائل کے حل کے لیے انتظامی اکائیوں میں بہتری کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ تاہم، پیپلز پارٹی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی خطے کی جغرافیائی حیثیت اور صوبائی حدود کو وہاں کے عوام کی خواہشات کے خلاف تبدیل کرنا آئینی اور سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے پارلیمانی اجلاس میں اس حساس نوعیت کے معاملے پر مزید اہم فیصلے متوقع ہیں۔