World
ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں پر حملوں سے انکار، اہم عالمی خبر
سعودی ولی عہد نے بحیرہ احمر کے خطے میں حوثیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر امریکہ سے فوجی مدد اور فضائی حملوں کی درخواست کی تھی۔ تاہم، ذرائع کے مطابق نومبر میں منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پرانے مطالبے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں پر براہ راست امریکی فوجی حملے کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد نے بحیرہ احمر اور خطے میں حوثیوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے تناظر میں امریکہ سے فوجی مداخلت اور حملوں کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ایرانی حمایت یافتہ گروہ کی جارحیت کا سدباب کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے براہ راست فوجی کارروائی یا فضائی حملے کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم واشنگٹن نے اس کشیدہ صورتحال کے دوران ریاض کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون اور ہدف کے تعین میں مدد کو وسعت دی ہے۔ اس اقدامات کا مقصد سعودی عرب کو اپنی سلامتی کے دفاع میں خودمختار رکھنا اور خطے میں امریکی افواج کو براہ راست ایک نئی طویل جنگ میں جھونکنے سے گریز کرنا ہے۔
بحیرہ احمر میں بین الاقوامی بحری جہازوں اور تجارتی راستوں پر حوثی باغیوں کے حملوں نے عالمی تجارت اور توانائی کی رس رسد کو شدید متاثر کیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں، لیکن حوثیوں کے خلاف زمینی یا بڑے پیمانے پر جارحانہ فضائی مہم کے معاملے پر امریکی حکام انتہائی محتاط پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ پالیسی مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی الجھاؤ سے بچنے کی ان کی طویل مدتی سوچ کی عکاس ہے۔ خطے کے ممالک اب اپنی دفاعی صلاحیتوں کو خود مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ امریکہ براہ راست جنگی کارروائیوں کی بجائے انٹیلی جنس اور سفارتی ذرائع پر زیادہ انحصار کرنے کو ترجیح دے رہا ہے۔