Politics
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا ضلعی عدلیہ کی مضبوطی پر زور
چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک کے انصاف کے نظام میں ضلعی عدلیہ کو ریڑھ کی ہڈی قرار دیا ہے۔ انہوں نے عدلیہ کو بیرونی دباؤ سے آزاد کرانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے ضلعی عدلیہ کو ملک کے مجموعی نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس کی مضبوطی پر خصوصی زور دیا ہے۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے اجلاس اور دیگر تقریبات سے خطاب کے دوران انہوں نے عدالتی کارکردگی اور اصلاحات پر روشنی ڈالی۔ چیف جسٹس نے ملک بھر میں ایک لاکھ چھتالیس ہزار سے زائد مقدمات کے بروقت فیصلوں پر ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کو سراہا اور اسے خوش آئند قرار دیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری عدلیہ متحد ہے اور وہ ججوں کو کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد کرانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے نچلی سطح پر عدلیہ کا مضبوط اور بااختیار ہونا ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ، چیف جسٹس نے نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ اور نسٹ لاء اسکول کے ڈین سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں جسٹس سیکٹر میں تعاون کو فروغ دینے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے رول آف لاء انڈیکس کے مانیٹرز سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے میں کی جانے والی بہتریوں کا اعتراف کریں اور اس کا مثبت جائزہ لیں۔ قانونی ماہرین نے چیف جسٹس کے ان بیانات کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک میں قانون کی بالادستی اور انصاف کے نظام میں بہتری آئے گی۔