LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کے لیے فضائی دفاعی اوقات میں کمی کا اعلان

News Image
امریکہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کے لیے فضائی دفاعی وقت کے سلاٹ محدود کر دیے ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں امریکی فورسز نے ایران کی مبینہ ناکہ بندی کے پیش نظر 99 تجارتی جہازوں کے راستے تبدیل کرا دیے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی آئل ٹینکرز اور بحری جہازوں کے لیے فضائی دفاعی وقت کے سلاٹ کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم بحری گزرگاہ پر سیکیورٹی خدات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد امریکی عسکری حکام کی طرف سے یہ اقدامات سامنے آئے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم ترین رستہ مانا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل لے جانے والے جہاز گزرتے ہیں۔ اس نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد بین الاقوامی جہاز رانی کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ بحری جہازوں کو اب انتہائی مخصوص اور محدود وقت میں ہی فضائی حفاظتی حصار میسر آ سکے گا۔ میڈیا رپورٹس میں فنانشل ٹائمز اور دیگر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس صورتحال کے اثرات براہ راست تجارتی ٹریفک پر پڑ رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے مبینہ ناکہ بندی اور خطے میں موجود سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر امریکی سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کم از کم ننانوے (99) تجارتی اور بحری جہازوں کے روٹس تبدیل کروائے ہیں۔ امریکی فورسز نے ان جہازوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے طے شدہ راستوں میں تبدیلی کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا ممکنہ عسکری تصادم سے بچا جا سکے۔ اس تبدیلی سے عالمی منڈی میں توانائی کی رسد کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ جہازوں کے راستے تبدیل ہونے سے ترسیل کے وقت اور اخراجات میں اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس قسم کی تبدیلیاں بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ امریکی فضائی دفاعی اوقات میں کمی کے بعد تیل بردار جہاز کمپنیوں کو اپنے شیڈول از سر نو مرتب کرنا پڑ رہے ہیں۔ اگرچہ امریکی فوج اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن محدود فضائی تحفظ اور جہازوں کے راستے بدلنے کے احکامات نے بحری سفر کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس پیش رفت پر بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کے اس اہم سمندری راستے پر امن اور تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔