LIVE
Loading Breaking News...

وینس فلم فیسٹیول میں غزہ کی دستاویزی فلم اور جان مالکووچ کا مقابلہ

News Image
وینس فلم فیسٹیول میں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر مبنی ایک دستاویزی فلم کو 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی اور یہ فلم دیگر نامور ڈراموں کے ساتھ سب سے بڑے انعام کے لیے مدمقابل ہے۔ اس طاقتور فلم نے نقادوں اور شائقین کی توجہ کا مرکز بن کر عالمی سطح پر ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے۔
اٹلی میں جاری معروف وینس فلم فیسٹیول کے دوران اس سال کا میلہ ایک انتہائی طاقتور اور دل دہلا دینے والی دستاویزی فلم کے نام رہا جو غزہ میں جاری صورتحال اور اسرائیلی جنگی حکمت عملی پر مبنی ہے۔ اس فلم نے نہ صرف ناظرین کو مبہوت کیا بلکہ فیسٹیول کی تاریخ میں طویل ترین سراہے جانے والے لمحات میں سے ایک اپنے نام کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس دستاویزی فلم کی نمائش کے بعد ہال میں موجود حاضرین نے لگاتار پچیس منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور فلم سازوں کی جرأت کو خراج تحسین پیش کیا۔ فلم کے ہدایت کاروں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی جانوں کو محض اعداد و شمار یا ضمنی نقصان سمجھ لیا جاتا ہے۔ فلم میں اس تلخ حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ حملے کرنے والوں کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ وہ جس گھر کو نشانہ بنا رہے ہیں وہ معصوم بچوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس دستاویزی فلم نے عالمی سنیما کے حلقوں میں ایک ہلچل مچا دی ہے اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس کی پذیرائی کی ہے۔ دوسری جانب ہالی ووڈ کے مایہ ناز اداکار جان مالکووچ کا نیا ڈراما بھی فیسٹیول کے سب سے بڑے اعزاز کے لیے اس شدید مقابلے میں شامل ہے۔ دونوں تخلیقات اپنے منفرد موضوعات اور شاندار پیشکش کی بدولت ججوں اور ناقادوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ فلمی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اس سال کا مقابلہ انتہائی سخت ہے کیونکہ روایتی ڈرامائی کہانیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی موضوعات پر بنی فلمیں بھی شائقین کے دل جیت رہی ہیں۔ فیسٹیول کے اختتام پر جیتنے والوں کا اعلان کیا جائے گا تاہم غزہ پر بنی یہ دستاویزی فلم پہلے ہی دنیا بھر میں سرفہرست موضوع بحث بن چکی ہے اور سنیما کی تاریخ میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کر چکی ہے۔