World
برطانیہ میں خود ساختہ موت کا بل پارلیمنٹ میں مسترد
برطانوی پارلیمنٹ میں انتہائی متنازعہ خود ساختہ موت سے متعلق بل پر ہونے والی رائے شماری میں اراکین نے اسے مسترد کر دیا۔ اس اہم فیصلے کے حق میں 270 اور مخالفت میں 286 ووٹ ڈالے گئے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آنے والا انتہائی حساس اور متنازعہ خود ساختہ موت کا بل اراکین کی اکثریت کی جانب سے مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس اہم قانون سازی پر پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں طویل اور گرما گرم بحث ہوئی، جس کے بعد منعقدہ رائے شماری کے نتائج نے اس موضوع پر ملک بھر میں جاری تقسیم کو مزید واضح کر دیا ہے۔ اس رائے شماری کے دوران کُل 556 اراکین پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔ موصولہ تفصیلی نتائج کے مطابق بل کی مخالفت میں 286 ووٹ ڈالے گئے جبکہ اس کے حق میں 270 اراکین نے اپنا ووٹ استعمال کیا۔ اس معمولی فرق سے بل کی ناکامی نے ایک بار پھر طبی اخلاقیات، انسانی حقوق اور قانونی حدود کے مابین جاری طویل بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ اس قانون کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ لاعلاج اور شدید تکلیف میں مبتلا مریضوں کو اپنی زندگی کے خاتمے کا پرامن اور قانونی حق ملنا چاہیے، جسے وہ انسانی وقار اور ذاتی آزادی سے تعبیر کر رہے تھے۔ دوسری جانب، اس بل کی سخت مخالفت کرنے والے اراکین اور سماجی تنظیموں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے قانون سے معاشرے میں کمزور اور بزرگ افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور طبی اداروں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے اس فیصلے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں انسانی حقوق کے کارکنان اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں اخلاقی اور مذہبی تنظیموں نے اسے انسانی جان کے تحفظ کی فتح قرار دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کے معاملات پر پارلیمنٹ میں مزید مباحثے ہو سکتے ہیں، تاہم فی الحال یہ بل قانون کی شکل اختیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔