LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صدر کی پالیسیاں اور برکس اتحاد کا مستقبل

News Image
امریکی صدر کی جانب سے برکس ممالک کو کمزور کرنے کی کوششیں الٹا اثر دکھا سکتی ہیں اور یہ اتحاد مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی تجارتی منظر نامے میں نئے امریکی اقدامات سے برکس کے رکن ممالک کے درمیان اتحاد مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی اقتصادی اتحاد برکس (BRICS) کو کمزور کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات بظاہر اس کے برعکس اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔ عالمی سیاسی اور تجارتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی اور سفارتی پالیسیاں برکس ممالک کو مزید قریب لا سکتی ہیں، جس سے اس تنظیم کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ ٹرمپ نے ماضی میں اور حالیہ بیانات میں بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ برکس ممالک کو امریکی ڈالر کے متبادل کرنسی کے قیام یا اس کے اثرات کو کم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تاہم، ناقدین کا ماننا ہے کہ دباؤ کی یہ سیاست ترقی پذیر معیشتوں کو باہم متحد ہونے پر مجبور کر سکتی ہے۔ برکس میں اس وقت برازیل، روس، بھارت، چین، اور جنوبی افریقہ سمیت کئی اہم ابھرتی ہوئی معیشتیں شامل ہیں، جبکہ دیگر کئی ممالک بھی اس میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔ امریکی اقتصادی پابندیوں اور تجارتی ٹیرف کے خطرات کے پیش نظر یہ ممالک اپنے مالیاتی نظام کو امریکی اثر و رسوخ سے آزاد کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر امریکہ برکس پر مزید دباؤ بڑھاتا ہے، تو اس سے اتحاد کے اراکین کے اندر ایک نیا احساسِ تحفظ پیدا ہو گا، جو انہیں آپسی تجارت کو فروغ دینے اور مقامی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھانے کی ترغیب دے گا۔ اس طرح، وہ پالیسیاں جو برکس کو نقصان پہنچانے کے لیے بنائی جا رہی ہیں، دراصل اس کے لیے سب سے بہترین محرک یا ریکروٹمنٹ ایجنٹ ثابت ہو سکتی ہیں، جو دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اس پلیٹ فارم کا حصہ بننے کی دعوت دے رہی ہیں۔