LIVE
Loading Breaking News...

نائن الیون اور عالمی تنازعات کی زبان میں تبدیلی

News Image
گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات نے دنیا بھر میں تنازعات اور جنگی حکمت عملی کی زبان کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اس نئے لغت نے انسانی حقوق کی پامالی کو جواز فراہم کرنے کے لیے سینیٹائزڈ اصطلاحات متعارف کروائیں۔
گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے تباہ کن واقعات نے نہ صرف عالمی سیاست اور سکیورٹی کے منظر نامے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا بلکہ اس نے سفارت کاری اور جنگی مباحث میں استعمال ہونے والی الفاظ اور اصطلاحات کو بھی ایک نئی شکل دی۔ ان المناک حملوں کے بعد عالمی سطح پر ایک ایسی نئی لغت وجود میں آئی جس نے بظاہر سلامتی اور دفاع کے نام پر انسانی حقوق کی پامالیوں اور کٹاؤ کو سینیٹائز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران ایسے الفاظ اور اصطلاحات کو عام کیا گیا جو سنگین نوعیت کے اقدامات کو نرم یا قابل قبول بنا کر پیش کرتی تھیں۔ ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کا بنیادی مقصد دنیا کو یہ باور کرانا تھا کہ روایتی قوانین اور ضابطے اب ایک نئی اور غیر معمولی نوعیت کے خطرے کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔ اس نئی زبان نے ریاستوں کو یہ اختیار دیا کہ وہ سکیورٹی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کو پس پشت ڈال سکیں اور اسے ایک لازمی دفاعی اقدام کے طور پر پیش کریں۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تنازعات کے حل کے طریق کار اور قانونی مباحث میں ایک طویل مدتی اور گہرا اثر مرتب ہوا جس کے اثرات آج بھی دنیا بھر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس نئی لغت پر ہمیشہ گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک موڑ قرار دیا ہے۔ اس تناظر میں نائن الیون کے بعد کا دور نہ صرف سیاسی اور عسکری اعتبار سے بلکہ فکری اور لسانی سطح پر بھی ایک نئے عہد کا آغاز ثابت ہوا جس نے دنیا بھر کے معاشروں میں آزادی اور سلامتی کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا۔