LIVE
Loading Breaking News...

چلی میں فوجی بغاوت کی برسی پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں

News Image
چلی میں 1973 کے فوجی تختہ الٹنے کی 53 ویں برسی کے موقع پر دارالحکومت میں پُرشدد مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
جنوبی امریکی ملک چلی میں سال 1973 کے تاریخی فوجی تختہ الٹنے کی 53 ویں برسی کے موقع پر ملک بھر میں شدید کشیدگی اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دیکھا گیا ہے۔ دارالحکومت سانتیاگو سمیت مختلف شہروں میں اس سیاہ دن کی یاد میں ریلیاں نکالی گئیں جو دیکھتے ہی دیکھتے پُرشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئیں۔ چلی کے عوام آج بھی اس تاریخی واقعے کے اثرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ مظاہروں کے دوران سڑکوں پر نکلنے والے افراد نے سابق فوجی آمریت کے خلاف نعرے بازی کی اور متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات تھے۔ صورتحال اس وقت قابو سے باہر ہو گئی جب مشتعل مظاہرین نے رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی اور پولیس پر پتھراؤ کیا، جس کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کرنا پڑا۔ چلی کی تاریخ میں گیارہ ستمبر 1973 کا دن انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے جب جنرل آگسٹو پینوشے کی قیادت میں فوج نے جمہوری طور پر منتخب صدر سلواڈور الیندے کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اس فوجی قبضے کے نتیجے میں ملک میں طویل عرصے تک آمریت کا دور دورہ رہا جس میں ہزاروں افراد کو جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ برسی کے موقع پر ہونے والے یہ تازہ مظاہریں اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک کی تاریخ کا یہ زخم آج بھی تازہ ہے اور عوام اس کے سیاسی اثرات پر آج بھی بٹے ہوئے ہیں۔