World
برکس اجلاس بھارت: عالمی بحران اور اقتصادی ایجنڈے پر اہم مذاکرات
بھارت میں منعقد ہونے والے برکس کے اس سالانہ اجلاس میں عالمی اقتصادی چیلنجز اور اہم علاقائی تنازعات پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔ یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کو مشرق وسطیٰ اور یوکرین سمیت متعدد بحرانوں کا سامنا ہے۔
بھارت میں منعقد ہونے والا برکس کا اس سال کا سربراہی اجلاس عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اہم اجتماع میں رکن ممالک کے رہنما مختلف تزویراتی، اقتصادی اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں تاکہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ اجلاس کا یہ دور ایسے انتہائی نازک وقت میں شروع ہوا ہے جب دنیا بھر کو شدید معاشی دباؤ اور بڑے پیمانے پر سیاسی و عسکری کشیدگی کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ بیٹھک عالمی طاقتوں کے درمیان نئے معاشی اور سیاسی توازن کی تلاش میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
اجلاس کے باضابطہ ایجنڈے میں بنیادی طور پر عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز، تجارتی رکاوٹیں اور مالیاتی نظام میں اصلاحات کے موضوعات سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ، رکن ممالک اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کس طرح عالمی سپلائی چین کو مستحکم رکھا جائے اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے طوفان کا مقابلہ کیا جائے۔ موجودہ عالمی اقتصادی منظر نامے میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ عالمی کساد بازاری کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
اس سال کے سربراہی اجلاس کی ایک اہم اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کو متعدد سنگین جغرافیائی سیاسی تنازعات کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے ساتھ ساتھ روس اور یوکرین کے مابین جاری تنازعے کے عالمی امن اور معیشت پر پڑنے والے اثرات کا بھی احاطہ کیا جا رہا ہے۔ برکس ممالک کی کوشش ہے کہ ان تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کی بحالی کے لیے اجتماعی آواز اٹھائی جائے۔
اختتامی سیشنز میں توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ تمام رکن ممالک باہمی تجارت کے فروغ، مالیاتی خودمختاری اور کثیر قطبی دنیا کے قیام کے عزم کا اعادہ کریں گے۔ برکس کا یہ فورم ترقی پذیر دنیا کی آواز کو عالمی پلیٹ فارمز پر مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس اجلاس کے دوران ہونے والے فیصلوں اور مشترکہ اعلامیے کے دنیا بھر کے سیاسی اور معاشی حلقوں پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، جو آنے والے مہینوں میں عالمی سیاست کی سمت کا تعین کریں گے۔