World
بھارت میں آن لائن جوا بحران، اموات اور قرضوں کی داستان
بھارت میں آن لائن جوئے کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف قرضوں کے پہاڑ کھڑے کر رہا ہے بلکہ متعدد قیمتی جانوں کے زیاں کا سبب بھی بن رہا ہے۔ حکومتی پابندیوں کے باوجود یہ صنعت نت نئے طریقوں سے اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے۔
نئی دہلی: بھارت میں آن لائن جوئے کی صنعت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں قرضوں اور اموات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طرف جہاں اس صنعت کے خلاف حکومتی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف یہ غیر قانونی کاروبار نئے اور جدید طریقوں سے سرکاری پابندیوں کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ خمیازہ عام خاندانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جن کے نوجوان اس دلدل میں دھنس کر اپنی جمع پੂੰجی گنوا بیٹھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل رسائی اور اسمارٹ فونز کے عام ہونے کی وجہ سے ہر عمر کے افراد بالخصوص نوجوان اس خطرناک رجحان کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ آن لائن گیمنگ اور سٹے بازی کے اس ناپاک کھیل نے متعدد گھرانوں کو مالی طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید ابتر ہو جاتی ہے جب جوئے میں جمع پੂੰجی ہار جانے کے بعد افراد کو قرض کے بھاری بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مالی دباؤ، قرض خواہوں کی دھمکیوں اور معاشرتی رسوائی کے خوف سے کئی افراد انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس سے نہ صرف قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں بلکہ ان کے پسماندگان ہمیشہ کے لیے صدمے اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حکومتی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کہ وہ ان پوشیدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا سراغ لگائیں۔ اگرچہ کچھ ایپس اور ویب سائٹس کو بند کیا گیا ہے لیکن منتظمین نئے ڈومینز اور پراکسی سرورز کے ذریعے فوری طور پر دوبارہ فعال ہو جاتے ہیں۔ معاشرتی ماہرین اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ محض پابندیاں لگانا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف ایک جامع آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو اس جان لیوا لت سے بچایا جا سکے، ورنہ یہ بحران مزید کئی گھر اجاڑ دے گا۔