World
برکس سربراہ اجلاس: چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ بھارت
چینی صدر شی جن پنگ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں کے سائے میں ہونے والے دو روزہ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کو 2019 کے بعد دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تعلقات میں ایک بڑی برف پگھلنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ ہفتے کے روز نئی دہلی پہنچ گئے ہیں جہاں وہ بھارت، روس اور ایران سمیت دیگر رہنماؤں کے ساتھ برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ دو روزہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر تجارت، توانائی کی سیکیورٹی اور یوکرین و مشرق وسطیٰ کی جنگیں اس منقسم گروپ کے لیے بڑے چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔ شی جن پنگ کا یہ دورہ سنہ 2019 کے بعد ان کا پہلا دورہ بھارت ہے اور دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان سرحدی کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ چینی صدر کے استقبال کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا اور روایتی رقص کا اہتمام بھی کیا گیا۔
یہ دورہ سنہ 2020 میں متنازعہ تبتی سرحد پر ہونے والے خونی فوجی تصادم کے چھ سال بعد ہو رہا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان پروازوں کی بحالی، ویزا اور اعلیٰ سطح کے رابطوں کے ذریعے تعلقات میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ بیجنگ کی جانب سے جمعہ کے روز کہا گیا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ باہمی تعاون کو مضبوط بنانے، مواصلات کو بہتر کرنے اور اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، سرحد پر دونوں جانب سے بھاری فوجی تعیناتی اب بھی برقرار ہے اور بنیادی سرحدی تنازعہ تاحال حل طلب ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ہفتے کے روز ہی باضابطہ اور بالمشافہ ملاقات ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین سرحد کے مسئلے پر جلد اور خاطر خواہ پیش رفت کے خواہاں ہیں۔ دوسری جانب، نئی دہلی میں تبتی برادری کی طرف سے اس دورے کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کیا گیا جہاں جلاوطن تبت یوں نے چینی صدر کی آمد کے خلاف پلے کارڈز اٹھائے رکھے اور نعرے بازی کی۔
برکس کے اس اجلاس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی شریک ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اجلاس کے افتتاحی لمحات میں شریک رہنماؤں کو بتایا کہ برکس ممالک دنیا کی پچاس فیصد آبادی اور چالیس فیصد جی ڈی پی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تاہم، مشرق وسطیٰ اور خلیجی تنازعات اس اجلاس کے دوران مرکزی بحث کا محور بنے ہوئے ہیں، جہاں سودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران جیسے ممالک بھی مختلف جغرافیائی سیاسی موقف کے ساتھ اس اتحاد کا حصہ ہیں۔