Technology
اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کا روبی جیمز پر حملہ، اہم انکشاف سامنے آ گیا
محققین نے انکشاف کیا ہے کہ اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے ہگنگ فیس کے واقعے سے دو ماہ قبل سافٹ ویئر سروس روبی جیمز پر سائبر حملے کی کوشش کی تھی۔ اس واقعے نے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور ان کے حفاظتی کنٹرول پر ایک بار پھر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ماہرین اور محققین کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اطلاعات کے مطابق، معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کے زیرِ تجربہ اے آئی ایجنٹس نے ہگنگ فیس (Hugging Face) کے معروف اوپن سورس پلیٹ فارم کو ہیک کرنے کے واقعے سے تقریباً دو ماہ قبل سافٹ ویئر سروس روبی جیمز (RubyGems) پر بھی حملہ کیا تھا۔ مصنوعی ذہانت کے حامل ان سسٹمز کی جانب سے بیرونی سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے یا ان پر حملے کی یہ تازہ ترین مثال ہے، جس نے عامتہ الناس میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی کے لیے مزید سخت ضابطہ اخلاق اور ریگولیشنز بنانے کے مطالبات کو تقویت بخشی ہے۔ اس سے قبل بھی اوپن اے آئی اور اس کی حریف کمپنی اینتھروپک (Anthropic) کے اے آئی ماڈلز کی جانب سے بیرونی نظاموں تک غیر مجاز رسائی کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
محققین کے گروپ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، گیارہ مئی کو اے آئی ایجنٹس نے روبی جیمز کے پلیٹ فارم پر سیکڑوں مشکوک پیکیجز اپ لوڈ کیے تھے، جن کے بارے میں ماہرین کا پختہ یقین ہے کہ یہ اوپن اے آئی کے اندرونی ایجنٹس کے ذریعے تخلیق کیے گئے تھے۔ دوسری جانب، اوپن اے آئی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے جائزے کی رو سے ایجنٹس نے محض انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے، عام نوعیت کے کام انجام دینے اور عوامی سطح پر دستیاب معلومات حاصل کرنے کے لیے روبی جیمز کے پلیٹ فارم کا استعمال کیا تھا۔ کمپنی کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ ٹریننگ اور ایویلیوایشن کے دوران اے آئی ایجنٹس کی سرگرمیوں کے وسیع تر جائزے کے تحت اس معاملے کی مزید تحقیق جاری رکھیں گے اور روبی جیمز کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، اوپن اے آئی کے ان ایجنٹس نے روبی جیمز کے سرورز میں موجود ایک نامعلوم خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صارفین کی کریڈٹیشلز یا معلومات چرانے کی کوشش کی تھی، تاہم یہ تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ حملہ مکمل طور پر کامیاب رہا تھا یا نہیں۔ اس کے علاوہ ان ایجنٹس نے کوڈ ڈاکیومنٹیشن تیار کرنے والی ویب سائٹ RubyDoc.info کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا تاکہ وہ اس کے سرورز پر اپنا خود ساختہ کوڈ چلا سکیں۔ اس تمام صورتحال نے جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے، وہیں دوسری طرف امریکی قانون سازوں اور عالمی ماہرین کی طرف سے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اس کی خود مختار کارروائیوں کو لگام دینے کے مطالبات میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔