LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں بچوں کے استحصال کا بحران، شیری رحمان کی فوری کارروائی کی اپیل

News Image
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے جنوری سے جون 2026ء کے دوران بچوں پر تشدد کے 1914 کیسز سامنے آنے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے مجرموں کے لیے فوری ٹرائل اور سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے جمعہ کے روز ملک میں بچوں کے تحفظ کے سنگین بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رواں برس جنوری سے جون 2026ء کے دوران بچوں کے خلاف تشدد اور استحصال کے 1914 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کو نشانہ بنانے والے درندوں کے لیے قانون میں کوئی رعایت نہیں ہونی چاہئے۔ شیری رحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان واقعات کا حجم انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ یہ وہ معصوم بچے ہیں جن کی حفاظت کی ذمہ داری خاندان، معاشرے اور ریاست پر عائد ہوتی ہے، لیکن اس کے برعکس وہ تشدد کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے بلکہ اس کے لیے فوری اور مربوط قومی ردعمل کی ضرورت ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کل رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 80 فیصد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے، جو صوبائی سطح پر بچوں کے تحفظ کے موجودہ میکانزم کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ان اعداد و شمار سے یہ جاننا ضروری ہو گیا ہے کہ آیا بچے محفوظ طریقے سے رپورٹ کرنے کے قابل ہیں یا نہیں، اور آیا محافظ ادارے پوری طرح لیس ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا کہ 43 فیصد ملزمان متاثرہ بچوں کے قریبی جاننے والے تھے، جبکہ تقریباً 45 فیصد واقعات بچوں کے اپنے گھروں کے اندر پیش آئے۔ انہوں نے کہاکہ گھر وہ جگہ ہے جہاں بچے کی حفاظت کی پہلی لائن ہونی چاہئے، لیکن جب ایسے گھناؤنے کام گھر کے اندر ہوں تو خاندانی سطح پر بھی کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 57 فیصد کیسز شہری علاقوں اور 43 فیصد دیہی علاقوں سے رپورٹ ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بچوں کا استحصال کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ ایک گہرا معاشرتی مسئلہ ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے پولیس کی طرف سے 89 فیصد مقدمات کے اندراج کو حوصلہ افزا قرار دیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ صرف ایف آئی آر کافی نہیں بلکہ موثر تفتیش اور چالان ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کی کہ بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے مقدمات میں فوری ٹرائل کو یقینی بنایا جائے تاکہ مجرموں کو کڑی سزائیں مل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ہے اور اگر ریاست اپنے معصوم بچوں کو بنیادی تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے تو یہ مستقبل کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔