LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں جاری تنازع اور پاکستان کا متوازن سفارتی مؤقف

News Image
یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت اور حوثی گروپ کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں، جس سے خطے میں ایک بار پھر تناؤ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان نے سعودی عرب سے دفاعی تعلقات کے باوجود یمن میں جارحانہ کارروائیوں میں حصہ نہ لینے کا متوازن اور پرامن مؤقف اپنایا ہے۔
یمن میں ایک بار پھر شدید لڑائی پھوٹ پڑی ہے جس کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت اور دارالحکومت صنعا سمیت شمالی علاقوں پر قابض حوثی انصار اللہ گروپ کے درمیان محاذ آرائی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ سال 2022 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے یمنی محاذ پر طویل عرصے تک نسبتاً خاموشی رہی تھی، تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں نے اس تاثر کو زائل کر دیا ہے۔ تازہ ترین پیش رفت میں حوثیوں نے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم شہر مخا اور ساحلی جزیروں پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جس کی وجہ سے وہ باب المندب آب دنا سے گزرنے والے جہازوں کے روٹس پر فیصلہ کن اختیار حاصل کر چکے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ تنازع خطے میں وسیع تر امریکی و ایرانی کشمکش کا بھی عکاس ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔