LIVE
Loading Breaking News...

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی: عدلیہ ججوں کو بیرونی دباؤ سے آزاد کرانے کے لیے متحد

News Image
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری عدلیہ ججوں کو کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ سے آزاد کرانے کے لیے مکمل طور پر یکجا ہے۔ انہوں نے ضلع عدلیہ کو انصاف کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور مشکل حالات میں فرائض انجام دینے والے عدالتی افسران کی تعریف کی۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد میں ایک اہم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کی پوری عدلیہ ججوں کو کسی بھی بیرونی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد کرانے کے لیے ایک پیج پر اور متحد ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عدلیہ کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ماتحت عدلیہ کے ججوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔ اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے ضلع عدلیہ کو انصاف کے پورے نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ جب تک نچلی سطح پر فیصلے شفاف اور بروقت نہیں ہوں گے، عام آدمی کو ریلیف نہیں مل سکتا۔ انہوں نے مشکلات کے باوجود اپنے فرائض تندہی سے انجام دینے والے عدالتی افسران کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں عدلیہ کی آزادی اور نظامِ عدل میں بہتری کے حوالے سے اہم مباحثے جاری ہیں۔ انہوں نے تمام ججوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی خوف یا دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر آئین اور قانون کے مطابق اپنے فیصلے صادر کریں۔ قانونی ماہرین نے چیف جسٹس کے اس بیان کو عدلیہ کی خودمختاری کے تحفظ اور ججوں کے مورال کو بلند کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ کانفرنس کے دوران عدلیہ کے چیلنجز اور ان کے حل کے لیے تجاویز پر بھی تفصیلی غور کیا گیا تاکہ انصاف کے عمل کو مزید شفاف اور عوام کے لیے آسان بنایا جا سکے۔