Pakistan
اسلام آباد ہائی کورٹ کا شیشہ کیفجز سے متعلق اہم فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانونی شیشہ کیفجز کے خلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائی سے حکام کو روک دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو شیشہ سے متعلق قوانین کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں قائم قانونی شیشہ کیفجز کے خلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائیاں کرنے سے حکام کو روک دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے یہ حکم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں شیشہ کے استعمال اور اس کے قانونی فریم ورک سے متعلق امور پر بحث جاری ہے۔ عدالت نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس معاملے میں واضح اور جامع قانونی فریم ورک کا فقدان ہے، جو انتظامی اور قانونی دونوں لحاظ سے ایک تشویشناک امر ہے۔
عدالتِ عالیہ کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وفاقی کابینہ کو شیشہ سے متعلق قوانین کو جلد از جلد تیار کرنے اور اسے حتمی شکل دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جب تک واضح قوانین موجود نہیں ہوں گے، اس صنعت سے جڑے قانونی کاروبار کو شدید مشکلات کا سامنا رہے گا۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ اسلام آباد پولیس اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو غیر قانونی شیشہ کیفجز کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکا جا سکے۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ عبوری حکم ان کاروباروں کے لیے ایک ریلیف ہے جو تمام تر ضابطوں کو پورا کرتے ہوئے قانونی طریقے سے چلائے جا رہے ہیں۔ اس فیصلے سے انتظامیہ اور کاروباری طبقے کے درمیان دائرہ اختیار اور ضابطہ کار سے متعلق ابہام بھی دور ہونے کی توقع ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وفاقی کابینہ اس حوالے سے جلد ہی نئے قوانین متعارف کروائے گی تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا قلع قمع کیا جا سکے اور قانونی کاروباروں کا تحفظ بھی ممکن ہو سکے۔