Technology
گلیکسی ایس 26 الٹرا کا پرائیویسی ڈسپلے مہنگا کیوں؟
سیمسنگ نے اپنے نئے فلیگ شپ اسمارٹ فون گلیکسی ایس 26 الٹرا میں جدید پرائیویسی ڈسپلے متعارف کرایا ہے جو سائیڈ سے دیکھنے والے افراد سے اسکرین کو محفوظ رکھتا ہے۔ تاہم اس جدید ترین ٹیکنالوجی کی تیاری کی لاگت معیاری او ایل ای ڈی پینلز کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ ہے۔
عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں معروف ترین کورین برانڈ سیمسنگ کی جانب سے اپنے نئے فلیگ شپ اسمارٹ فون گلیکسی ایس 26 الٹرا میں ایک انتہائی انقلابی اور جدید فیچر متعارف کرایا گیا ہے جسے پرائیویسی ڈسپلے کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد صارفین کی ذاتی نوعیت کے ڈیٹا اور معلومات کو اردگرد موجود افراد کی نظروں سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ جدید ترین او ایل ای ڈی پینل اسکرین کے دیکھنے کے زاویوں کو محدود کر دیتا ہے جس کی وجہ سے برابر میں کھڑے یا بیٹھے ہوئے شخص کو اسکرین پر نظر آنے والی چیزیں بالکل دکھائی نہیں دیتیں۔ اس فیچر کو اسمارٹ فون انڈسٹری میں سکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے ایک بہت بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم، اس جدید ٹیکنالوجی کو عام صارفین تک پہنچانا سیمسنگ کے لیے مالی طور پر کافی مہقہ سودا ثابت ہو رہا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس جدید پرائیویسی ڈسپلے کی تیاری کے اخراجات عام اور روایتی او ایل ای ڈی اسکرینز کے مقابلے میں تقریباً دس فیصد زیادہ ہیں۔ اس اضافی لاگت کی بڑی وجہ وہ پیچیدہ اور جدید مینوفیکچرنگ کے مراحل ہیں جو اس اسپیشل پینل کو تیار کرنے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکرین کے زاویوں کو سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کے اشتراک سے محدود کرنے کے لیے اعلیٰ درجے کے مواد اور جدید ترین انجینئرنگ کی ضرورت پڑتی ہے جس کی وجہ سے مجموعی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس اضافی مالی بوجھ کے باوجود سیمسنگ کا یہ ماننا ہے کہ مارکیٹ میں پرائیویسی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر صارفین اس نئی خصوصیت کو بے حد پسند کریں گے۔ موجودہ دور میں جہاں ڈیٹا کی حفاظت اور پرائیویسی سب سے اہم مسئلہ بن چکی ہے، صارفین اپنے اسمارٹ فونز میں ایسے فیچرز کو ترجیح دے رہے ہیں جو ان کی ذاتی معلومات کو پبلک مقامات پر محفوظ رکھ سکیں۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا سیمسنگ اس اضافی دس فیصد پیداواری لاگت کا بوجھ خود برداشت کرتا ہے یا پھر گلیکسی ایس 26 الٹرا کی حتمی قیمت میں اس کا اثر صارفین پر ڈالا جائے گا۔ بہرحال، یہ قدم موبائل اسکرین ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل ضرور ثابت ہو رہا ہے۔