World
يمن میں جنگی کشیدگی اور حوثی پیش قدمی تازہ ترین خبریں
يمن میں ایک بار پھر شدید لڑائی کا آغاز ہو گیا ہے جہاں حوثی باغیوں کی پیش قدمی کے بعد سرکاری فورسز نے فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ اس حالیہ تنازعے کے نتیجے میں دسیوں ہزار معصوم سویلین شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
يمن میں ایک بار پھر پُرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو انتہائی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں ایران کے حامی حوثی باغیوں کی اچانک اور برق رفتار پیش قدمی کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل خطے میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حوثی باغیوں کی حالیہ کارروائیوں کے بعد یمنی حکومت نے جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور مختلف مقامات پر شدید فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔ حوثی باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے کیے جانے والے ان حملوں کے نتیجے میں دونوں جانب سے شدید جانی و مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم سب سے زیادہ نقصان کا سامنا عام شہریوں کو کرنا پڑ رہا ہے جو اس نئی خونریز جنگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ زمینی حقائق کے مطابق اس تازہ ترین کشیدگی اور جھڑپوں کی وجہ سے تقریباً پچاس ہزار یمنی شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی نقل مکانی نے پہلے ہی سے سنگین انسانی بحران سے دوچار یمن میں صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے جہاں خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔ بین الاقوامی فلاحی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر فائر بندی یا جنگ بندی کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ دریں اثنا، حوثی باغیوں کی اس برق رفتار پیش قدمی اور دفاعی ناکامی پر سیاسی و عسکری حلقوں میں شدید تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس تنازعے کے طول پکڑنے سے خطے میں امن کی بحالی کی تمام کوششیں دھری کی دھری رہ جائیں گی اور عام انسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔