LIVE
Loading Breaking News...

سندھ میں نئے صوبوں کا مطالبہ: بہتر حکمرانی اور سیاسی بحث

News Image
ملک میں ایک بار پھر انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ سندھ کے عوام اور مختلف حلقوں کی جانب سے بہتر گورننس کے لیے نئے صوبے بنانے کا پرزور مطالبہ کیا جا रहा ہے۔
ملک کے سیاسی اور انتظامی منظر نامے میں ایک بار پھر صوبوں کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ سندھ کے مختلف علاقوں میں عوام اور باشعور حلقوں کی جانب سے یہ آواز اٹھائی جا رہی ہے کہ بہتر حکمرانی اور عوام کے مسائل کو نچلی سطح پر حل کرنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ناقدین اور حامیوں کے درمیان اس موضوع پر ملک بھر میں گرما گرم مباحثے جاری ہیں، جن میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ بڑے صوبوں کا انتظام چلانا اور عام آدمی تک بنیادی سہولیات پہنچانا موجودہ ڈھانچے میں مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، اس حوالے سے سیاسی سطح پر بھی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ حال ہی میں ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام اور اس سے جڑے قانونی و آئینی امور پر پارلیمانی بحث کا آغاز اگلے ماہ متوقع ہے۔ وزیرِ متعلقہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ پارلیمنٹ کے ایوان میں اس حساس اور اہم موضوع پر سنجیدہ گفتگو کی جائے گی تاکہ تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔ سیاسی رہنما اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقف پیش کر رہے ہیں جہاں کچھ جماعتیں انتظامی بہتری کے لیے اس کی حامی ہیں تو کچھ اس پر تحفظات کا اظہار کرتی ہیں۔ سندھ کے حوالے سے یہ بحث انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ جہاں ایک طرف عوام اور بعض سیاسی دھڑے بہتر گورننس، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی ترقی کے لیے نئے صوبوں کی تشکیل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بعض حلقوں اور جماعتوں کی جانب سے اس مؤقف کی شدید مخالفت بھی کی جا رہی ہے۔ مخالفین کا ماننا ہے کہ صوبائی حدود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا اتفاق رائے کے بغیر صوبے کی تقسیم صوبائی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور یہ اقدام عوام کے بنیادی مینڈیٹ کے بھی منافی ہوگا۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان بھی سیاسی محاذ آرائی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس نوعیت کے مطالبات اور اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے کی یکجہتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں پارلیمانی بحث اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں مستقبل میں کیا تبدیلیاں لائی جاتی ہیں اور آیا نئے صوبوں کا دیرینہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہو پائے گا یا نہیں۔