LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی صدر پزشکیان کا بیان: تہران امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا

News Image
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے ہرگز ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ اس دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خطے میں امن کے قیام اور باہمی بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک سخت اور دوٹوک بیان میں واضح کیا ہے کہ تہران امریکہ کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائے گا اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا بدمعاشی کے آگے تسلیم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور دنیا بھر کے رہنماؤں کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے بات چیت کا راستہ اپنانا ناگزیر ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے سمندری گزرگاہوں اور جہاز رانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی خصوصی زور دیا۔ علاوہ ازیں، برکس (BRICS) کے پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ جائز تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو روکنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ انہوں نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کریں تاکہ یکطرفہ پابندیوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے اور رکن ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ ایران کی جانب سے خطے میں تجارتی رکاوٹوں اور یکطرفہ پابندیوں کے خلاف یہ آواز ایسے وقت میں اٹھائی گئی ہے جب تہران کو شدید معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایرانی صدر کا یہ موقف خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری تناؤ نے عالمی معیشت بالخصوص مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں بھارت سمیت دیگر اہم عالمی طاقتوں کا ثالثی کا کردار ادا کرنا اور فریقین کو بات چیت کی میز پر لانے کی کوشش کرنا ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران کے اندرونی حلقے بھی صدر پزشکیان کے اس مؤقف کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں کہ ملکی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ آئندہ دنوں میں سفارتی سطح پر ہونے والی یہ ملاقاتیں اور بیانات خطے کی سیاست کا رخ طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا امریکہ اور ایران کے مابین تعلقات میں پائی جانے والی خلیج کو کم کرنے کے لیے کوئی سفارتی پیش رفت ہو پاتی ہے یا نہیں۔ برکس فورم کے ذریعے ایران کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اس بات کا غماز ہیں کہ تہران مغربی دباؤ کے متبادل اقتصادی اور سیاسی اتحاد تلاش کرنے میں سنجیدہ ہے، جس سے عالمی طاقتوں کے درمیان توازن کی نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔