LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی وزیر خارجہ اور جنرل عاصم منیر کی ملاقات، حوثی حملوں پر تبادلہ خیال

News Image
ایرانی وزیر خارجہ اور پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز نے ایک اہم ملاقات میں سعودی عرب پر حوثی حملوں اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس ملاقات کا مقصد علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ اور پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں سعودی عرب پر حوثی حملوں اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق اس اعلیٰ سطح کے رابطے کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنا اور علاقائی ممالک کے درمیان سفارتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے کے امن کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا اور پائیدار حل کے لیے سفارت کاری کو موقع دینا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں کے تناظر میں پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کی حمایت کی ہے اور وہ مختلف ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کے کردار کے لیے بھی تیار رہتا ہے۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کے دیگر تضادات اور ان کے حل کے لیے ممکنہ سفارتی اقدامات پر بھی غور کیا تاکہ کسی بھی بڑی جنگ یا بحران سے بچا جا سکے۔ علاقائی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران اور پاکستان کے مابین اس قسم کے اعلیٰ سطحی رابطے مشرق وسطیٰ کے نازک حالات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں حالیہ بہتری کے بعد اس طرح کے مباحثے خطے کے دیگر تنازعات جیسے کہ یمن کی جنگ اور حوثی حملوں کے حل کے لیے راہیں ہموار کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین کے مابین بات چیت کی اہمیت پر زور دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد خطے میں امن اور سلامتی کا خواہاں ہے۔ اس ملاقات کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور ایران کے مابین سکیورٹی اور سفارتی سطح پر تعاون میں مزید اضافہ ہوگا۔ دونوں ممالک نے خطے کی موجودہ پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر باقاعدہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی بحران سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں اس نوعیت کے مزید سفارتی رابطے دیکھنے میں آئیں گے جو خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔