Entertainment
امریکی ریپر لِل ڈرک قتل کے مقدمے میں بری
امریکی ریپر لِل ڈرک کو قتل کی سازش کے مقدمے سے عدالت نے بری کر دیا۔ انہیں 2024 میں ایک فائرنگ کے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا جس میں ایک حریف ریپر کے کزن کی ہلاکت ہوئی تھی۔
گریمی ایوارڈ یافتہ معروف امریکی ریپر لِل ڈرک کو ایک اہم قتل کی سازش کے مقدمے سے مکمل طور پر بری کر دیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد انہیں الزامات سے بری کرنے کا فیصلہ صادر کیا ہے جس کے بعد ان کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یاد رہے کہ شکاگو سے تعلق رکھنے والے اس مشہور ریپر کو سال 2024 کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
استغاثہ کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ لِل ڈرک ایک ایسے فائرنگ کے واقعے میں ملوث تھے جس کا نتیجہ ایک حریف ریپر کوانڈو رونڈو کے کزن کی ہلاکت کی صورت میں نکلا تھا۔ اس سنسنی خیز مقدمے نے امریکی میوزک انڈسٹری اور بالخصوص ہپ ہاپ کی دنیا میں شدید ہلچل مچا دی تھی کیونکہ لِل ڈرک دنیا بھر میں ایک انتہائی مقبول اور بااثر فنکار مانے جاتے ہیں۔ گرفتاری کے بعد سے ہی ان کے وکلاء اس کیس کی قانونی جنگ لڑ رہے تھے اور مسلسل ان کی بے گناہی پر زور دے رہے تھے۔
عدالت میں طویل سماعتوں اور گواہوں کے بیانات کے بعد جج نے فیصلہ سنایا کہ استغاثہ لِل ڈرک کے خلاف اس سازش میں براہ راست ملوث ہونے کے ناقابل تردید اور مضبوط شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد لِل ڈرک کو تمام الزامات سے کلین چٹ مل گئی ہے اور ان کی قانونی مشکلات کا فی الوقت خاتمہ ہو گیا ہے۔ ان کے چاہنے والے اسے ایک بڑی قانونی فتح قرار دے رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے لِل ڈرک کے میوزک کیریئر کو دوبارہ پٹری پر لانے میں بڑی مدد ملے گی۔ اگرچہ اس پورے تنازع اور گرفتاری کی وجہ سے ان کے کچھ پراجیکٹس متاثر ہوئے تھے، تاہم اب مقدمے سے بری ہونے کے بعد وہ ایک بار پھر اپنی موسیقی اور شوز پر مکمل توجہ مرکوز کر سکیں گے۔ ان کے مداحوں اور ساتھی فنکاروں کی طرف سے بھی اس فیصلے پر مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔