LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں بجلی کا بحران: فلسطینی شہری گھنٹوں کے حساب سے جنریٹر کرائے پر لینے پر مجبور

News Image
اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں رہائشی مکانات اور بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے فلسطینی شہری روزمرہ کی ضروریات کے لیے گھنٹوں کے حساب سے جنریٹر کرائے پر لینے پر مجبور ہیں۔ اس بحران نے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
غزہ میں جاری شدید تباہی اور انسانی بحران کے دوران فلسطینیوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں خطے کا پورا بنیادی ڈھانچہ، رہائشی مکانات اور بجلی کا نظام زمین بوس ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پانی پمپ کرنے، فون چارج کرنے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بجلی کا حصول اب ایک خواب بن چکا ہے۔ ان حالات میں غزه کے مکینوں نے بقا کی جنگ لڑتے ہوئے انوکھا اور مہنگا راستہ اختیار کر لیا ہے، جہاں وہ گھنٹوں کے حساب سے جنریٹر کرائے پر لینے پر مجبور ہیں۔ ذرائع کے مطابق، مسلسل بمباری اور محاصرے کی وجہ سے ایندھن کی شدید قلت بھی پائی جاتی ہے، جس کے باعث جنریٹر کا کرایہ آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ اس کے باوجود لوگ اپنے موبائل فون چارج کرنے، بچوں کے لیے پانی گرم کرنے اور رات کو اندھیرے سے بچنے کے لیے اپنی جمع پੂੰی کا بڑا حصہ اس عارضی سہولت پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال غزہ کے عوام کی مالی بدحالی اور بے بسی کی عکاس ہے، جو روزمرہ کی معمولی ترین آسائشوں سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں توانائی اور بجلی کے اس ابتر بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی بند ہونے سے ہسپتالوں، نوزائیدہ بچوں اور عام شہریوں کی زندگیوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔ اسپتالوں میں پہلے ہی جنریٹرز کے لیے ایندھن ختم ہونے کے دہانے پر ہے، جبکہ عام آبادی بھی اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ متاثرہ فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نئے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ گھر بار سے محروم ہونے کے بعد اب زندہ رہنے کے لیے بجلی اور توانائی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی ایک جنگ بن چکا ہے۔ عالمی برادری سے بار بار اپیلوں کے باوجود غزہ کے عوام کو درپیش مشکلات میں کوئی کمی نہیں آ سکی، اور وہ اپنی روزمرہ زندگی کی بحالی کے لیے انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔