LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل لبنان مذاکرات ملتوی، جنوبی لبنان میں دھماکے

News Image
جنوبی لبنان میں ہونے والے دھماکوں کے بعد صدر عون نے واضح کیا ہے کہ اس وقت اسرائیل کے ساتھ کوئی نئے مذاکرات نہیں ہو رہے۔ کشیدگی میں اضافے کے باعث یہ سفارتی عمل عارضی طور پر موقوف کر دیا گیا ہے۔
جنوبی لبنان میں ہونے والے دھماکوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جس کے پیش نظر اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے شدہ مذاکرات کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری محاذ پر جاری کشمکش میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی جو کوششیں کی جا رہی تھیں، وہ حالیہ پرتشدد واقعات کی نذر ہو گئی ہیں۔ لبنان کے صدر نے اپنے ایک بیان میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے نئے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور حملے بند نہیں ہوتے، اس وقت تک کسی بھی سفارتی پیشرفت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ صدر کے اس بیان نے خطے میں امن کی امیدوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے اور عالمی برادری کے لیے بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس بات کی کوششیں کی جا رہی تھیں کہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے تاکہ ایک اور بڑی تباہی سے بچا جا سکے، لیکن زمینی حقائق نے ان تمام کوششوں کو وقتی طور پر معطل کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان کے تازہ دھماکے اور ان کے نتیجے میں مذاکرات کا التوا اس بات کا غماز ہے کہ خطے میں امن کا قیام ابھی ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ دونوں طرف سے سخت بیانات اور عسکری کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے عام شہریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اور عالمی ادارے خطے میں مزید خون خرابے کو روکنے کے لیے فوری جنگ بندی کی اپیل کر رہے ہیں۔