LIVE
Loading Breaking News...

یورپ میں انتہائی دائیں بازو کا عروج اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اثر

News Image
دہشت گردی کے خلاف جنگ نے یورپ میں اسلام فوبیا کو قانونی حیثیت اور سیاسی قوت فراہم کی۔ نائن الیون کے بعد کے حالات نے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو مین اسٹریم میں آنے کا موقع دیا۔
نائن الیون کے واقعات کو ایک چوتھائی صدی مکمل ہونے کے قریب ہے، اور اس طویل عرصے میں دنیا بھر بالخصوص مغربی ممالک کی سیاسی و سماجی ساخت میں گہری تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کی طرف سے شروع کی جانے والی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ نے یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے راہیں ہموار کیں اور انہیں ایک نئی سیاسی طاقت دی۔ اس تنازع کے نتیجے میں معاشروں میں جو خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوا، اس نے انتہا پسند نظریات کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی طور پر سکیورٹی کے نام پر جو پالیسیاں بنائی گئیں، انہوں نے بتدریج مسلمانوں اور تارکین وطن کو شک کے دائرے میں لا کھڑا کیا۔ اس ماحول میں اسلام فوبیا کو نہ صرف معاشرتی قبولیت ملی بلکہ اسے سیاسی پلیٹ فارمز پر بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔ مختلف یورپی ممالک میں دائیں بازو کی جماعتوں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سکیورٹی اور ثقافتی بقا کے نام پر عوام کو متحرک کیا، جس سے ان کے انتخابی اثر و رسوخ میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جو نظریات پہلے حاشیے پر سمجھے جاتے تھے، وہ اب مین اسٹریم سیاست کا حصہ بن چکے ہیں۔ انتخابی میدان میں ان جماعتوں کی کامیابیوں نے روایتی سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی پالیسیاں سخت کرنے پر مجبور کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے طویل المدتی اثرات نے نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کو متاثر کیا بلکہ یورپی جمہوریتوں کے اندرونی توازن کو بھی گہرے طور پر تبدیل کر دیا ہے، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔