LIVE
Loading Breaking News...

نئے صوبوں کے معاملے پر پارلیمنٹ حتمی فیصلہ کرے گی، رانا ثناء اللہ

News Image
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ پارلیمنٹ میں طے پائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے اہم موضوعات کو معاشی فورمز کی بجائے پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جانا چاہیے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق تمام معاملات کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی۔ لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے سنجیدہ اور انتظامی امور پر کاروباری سیمینارز یا معاشی فورمز پر بحث کرنے سے کوئی عملی بہتری پیدا نہیں ہوتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بحث پارلیمنٹ کے اندر ہونی چاہیے جہاں تمام سیاسی جماعتیں اور صوبائی قیادت مل بیٹھ کر اس کا بہتر حل نکال سکیں گی۔ نئے صوبوں کے حوالے سے بحث کا آغاز جولائی کے آخر میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے کیا گیا تھا، جنہوں نے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر انتظامی اکائیوں کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اس معاملے پر غور کر رہی ہے اور مناسب وقت پر تمام فریقین سے مشاورت کے بعد پارٹی کی باضابطہ پالیسی سامنے لائی جائے گی۔ انہوں نے سندھ اسمبلی کی جانب سے صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرنے کے ردعمل میں کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر غیر ضروری طور پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پر پیدا ہونے والے اختلافات کے حوالے سے امید ظاہر کی کہ دونوں جماعتیں بات چیت کے ذریعے اپنے تمام مسائل خوش اسلوبی سے حل کر لیں گی۔ پریس کانفرنس کے دوران جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف ممکنہ مارچ کے پلان پر بھی بات کی گئی۔ رانا ثناء اللہ نے جماعت اسلامی کے سیاسی رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت آئینی اور قانونی حدود میں رہ کر احتجاج کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی کے حوالے سے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کا احتجاج پرامن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئینی دائرہ کار میں کیے جانے والے پرامن سیاسی احتجاج کا احترام کرتی ہے، لیکن قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔