LIVE
Loading Breaking News...

کانگو میں ایبولا کا بدترین پھیلاؤ، سات ہزار سے زائد کیسز درج

News Image
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی تاریخ کے بدترین پھیلاؤ کے دوران کیسز کی تعداد سات ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس جان لیوا وائرس کے باعث اب تک تین ہزار چار سو کے قریب افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کی تاریخ کے بدترین پھیلاؤ کے دوران ریکارڈ کیے گئے کیسز کی تعداد سات ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ کانگو کے حکام کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اس جان لیوا مرض نے پورے ملک میں ایک طوفان برپا کر رکھا ہے اور یہ ملک کی سترہویں ایبولا وبا ہے جس میں اب تک تقریبا چونتیس سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ وبا ہفتوں تک خاموشی سے پھیلتی رہی اور مئی کے وسط میں اس کا باضابطہ انکشاف ہوا۔ یہ وبا ملک کے شمال مشرقی علاقے ایتوری صوبے سے شروع ہوئی تھی اور پھر تنازعات سے دوچار ان علاقوں میں پھیل گئی جہاں مسلح گروہوں کی موجودگی، کمزور سرکاری مشینری اور ناقص طبی ڈھانچہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ رواں ہفتے اس بیماری کے مزید پھیلنے کی تصدیق ایک اور صوبے ساؤتھ اوبانگی میں بھی ہوئی ہے جو وسطی افریقی جمہوریہ اور کانگو برازاویل کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وبا کے آغاز سے اب تک کل سات ہزار بائیس کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں سے تین ہزار تین سو اٹھانوے افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سولہ سو اکیتر افراد صحت یاب ہونے میں کامیاب رہے ہیں۔ زیادہ تر کیسز ایتوری صوبے میں سامنے آئے ہیں جہاں گرمیوں کی تعطیلات کے بعد اسکول کھلنے پر وہاں بھی اس کی تصدیق ہوئی ہے، جس سے والدین اور طبی عملے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ایتوری کے دارالحکومت بنیا میں ایک اسکول کے طالب علم کی والدہ اینجل مگانی نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہم انتہائی پریشان ہیں کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ کون سا بچہ کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے گھر والوں کی طبی حالت کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بہت ڈرائ ہوئے ہیں چاہے اسکول انتظامیہ ہمیں حفاظتی اقدامات کی یقین دہانی ہی کیوں نہ کروائے۔ ادھر اسکول کے ایک ذمہ دار راجر منگمبو کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں صابن سے ہاتھ دھونے کا لازمی نظام نافذ کیا گیا ہے اور ہر کلاس میں طلباء کی تعداد زیادہ سے زیادہ تیس تک محدود رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بچوں کو مسلسل اس بات سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو نہ چھوئیں۔ واضح رہے کہ ایبولا کا یہ موجودہ پھیلاؤ بنڈی بگیو اسرین کی وجہ سے ہے جس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا باضابطہ علاج موجود نہیں ہے تاہم کئی قسم کے علاج اور ویکسینز پر تجربات جاری ہیں۔