World
یمن میں حوثی پیش قدمی اور امریکہ کے لیے نئی مشکلات
یمن میں حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ ہونے والی تیز رفتار پیش قدمی کی وجہ سے تقریبا پچاس ہزار شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں امریکی پالیسیوں اور سفارتی کوششوں کے لیے ایک نئی اور پیچیدہ الجھن پیدا کر دی ہے۔
یمن کے اندر حوثیوں کی حالیہ اور اچانک پیش قدمی نے خطے میں جاری کشیدگی کو ایک بالکل نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثی جنگجوؤں کی تیز رفتار پیش قدمی کے نتیجے میں تقریباً پچاس ہزار یمنی شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس انسانی بحران کے ساتھ ساتھ اس عسکری پیش رفت نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک نئی سفارتی و عسکری الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی طرف سے خطے میں مزید بیرونی مداخلت کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے اور یہاں تک دھمکی دی گئی ہے کہ اسٹریٹ آف باب المندب کو بند کیا جا سکتا ہے۔ اس ممکنہ بحران نے عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے بحری راستوں پر گہرے بادل کھڑے کر دیے ہیں۔ مغرب بالخصوص واشنگٹن میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جہاں مبصرین اس پیش رفت کو حکمت عملی کی بڑی ناکامی قرار دے رہے ہیں اور اس معاملے پر باقاعدہ فنگر پوائنٹنگ یا الزام تراشی کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی اسٹریٹجک بحیرہ احمر کے اہم کوریڈور میں بحری جہازوں کی نقل و حمل کو محفوظ بنانے کے لیے طویل عرصے سے کوشاں ہیں، لیکن حوثیوں کی اس تازہ یلغار نے ان تمام سیکیورٹی انتظامات کو دھچکا لگایا ہے۔ ایران کے مبینہ حمایت یافتہ حوثی گروپ کی اس تیزی سے بدلتی ہوئی حکمت عملی نے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے حکام کے لیے دردِ سر بڑھا دیا ہے، کیونکہ وہ ایک طرف تو وسیع تر علاقائی جنگ کو پھیلنے سے روکنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اپنے اسٹریٹجک مفادات کا دفاع بھی کرنا چاہتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس بحران کے مزید گہرے ہونے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ زمینی حقائق تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ یمنی عوام اس کشیدگی کی سب سے بڑی قیمت چکانے پر مجبور ہیں، جبکہ عالمی برادری اور سفارتی حلقے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ حوثیوں کے اس نئے دباؤ کا مقابلہ کیسے کیا جائے اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں کو کس طرح خطرات سے محفوظ رکھا جائے۔