Politics
جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد مارچ کا اعلان
جماعت اسلامی کے امیر نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی میں اضافے کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے اس احتجاج کو موجودہ مہنگائی کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا ہے۔
جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما نے ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی لیوی کے خلاف ایک بڑے احتجاجی دھرنے اور مارچ کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے غریب عوام کا جینا محال ہو چکا ہے اور اب خاموش رہنا ممکن نہیں رہا۔ اسی سلسلے میں 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ایک فیصلہ کن مارچ کیا جائے گا تاکہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے پر مجبور کیا جا سکے۔
اس سے قبل حکومت کی طرف سے جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے مزید چند روز کی مہلت مانگی گئی تھی اور نائب امیر لیاقت بلوچ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ حکومت کو معاملات حل کرنے کے لیے وقت دیا گیا ہے۔ تاہم، مذاکرات میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہونے کے بعد جماعت اسلامی نے اپنے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد مارچ کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس مارچ کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔
دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت پر ٹیکس کے دباؤ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مطالبات کی وجہ سے عام آدمی کو ریلیف دینا مشکل ہو رہا ہے۔ لگژری گاڑیوں پر نئے ٹیکسز اور دوسری تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ پٹرولیم لیوی کے بوجھ کو کچھ کم کیا جا سکے۔ اس تمام صورتحال میں جماعت اسلامی کا یہ احتجاج حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ ملک بھر میں مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام اس تحریک میں بھرپور شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔