LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان میں دہشت گردوں سے مذاکرات ختم، وزیراعلیٰ کا سخت مؤقف

News Image
بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے عناصر کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات صاف طور پر مسترد کر دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
صوبہ بلوچستان کے اعلیٰ ترین منتخب عہدیدار اور وزیراعلیٰ نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے تخریب کاروں اور عسکریت پسندوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا امکان سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ مقامی میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ آئین اور قانون کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ کوئی مکالمہ نہیں ہو سکتا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ جو عناصر امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ دوسری جانب کوئٹہ کور کمانڈر کا بھی کہنا ہے کہ صوبے میں سیکیورٹی آپریشنز اس وقت تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے جب تک آخری دہشت گرد کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ عسکری اور سول قیادت کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ امن و امان کی بحالی کے لیے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے صوبے کے کچھ حساس علاقوں میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عقلمندانہ اقدامات اٹھائے ہیں، جس میں خانہ بدوش بستیوں کے تقریبا ایک ہزار مکینوں کی عارضی منتقلی بھی شامل ہے تاکہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیوں میں عام شہریوں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور حکومت کی جانب سے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات سے انکار ایک سخت لیکن ضروری فیصلہ ہے۔