Business
خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر تک، چین کا معاشی کردار اور عالمی مارکیٹ
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اب تمام نظریں چین کی اقتصادی پالیسیوں پر لگی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں اگلا رخ چین کی طلب اور رسد کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل کی سطح کے گرد گھوم رہی ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے توانائی کے شعبے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ضرور دیکھی گئی ہے، تاہم مجموعی طور پر اس ہفتے تیل کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے حالات خراب ہونے سے تیل، گیس اور قرض لینے کی لاگت میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
اس تمام صورتحال میں تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اب چین کی طرف مبذول ہو چکی ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہونے کے ناطے، چین کی جانب سے توانائی کی طلب اور اس کی درآمدی پالیسیاں اس بات کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی کہ تیل کی قیمتیں مزید اوپر جائیں گی یا ان میں استحکام آئے گا۔ اگر چین میں اقتصادی سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں اور تیل کی درآمدات میں اضافہ ہوتا ہے، تو قیمتیں دوبارہ بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں۔
دوسری جانب، مرکزی بینکوں کی افراط زر کے حوالے سے تشویش بھی بدستور برقرار ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دنیا بھر میں مہنگائی کی شرح کو متاثر کر رہا ہے، جس سے مرکزی بینکوں کے لیے مانیٹری پالیسی کو سنبھالنا مزید مشکل ہو رہا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کروڈ آئل کے حوالے سے مارکیٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی بڑی جغرافیائی سیاسی تبدیلی یا سپلائی کے خطرے کی صورت میں قیمتیں تیزی سے بدل سکتی ہیں۔
آنے والے دنوں میں عالمی توانائی مارکیٹ کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کا بحران کس سمت جاتا ہے اور بیجنگ کی جانب سے معاشی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔ تاجر اور سرمایہ کار احتیاط سے کام لے رہے ہیں کیونکہ مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال بدستور برقرار ہے اور کسی بھی وقت بڑا جھٹکا لگنے کا اندیشہ ہے۔