LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے خطرات: برنارڈ سینڈرز اور جیفری ہنٹن کا انتباہ

News Image
امریکی سیاستدان برنارڈ سینڈرز نے غیر کنٹرول شدہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف شدید خبردار کیا ہے۔ دوسری جانب معروف ماہرِ کمپیوٹر جیفری ہنٹن کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ہاتھوں انسانیت کی تباہی کے امکانات دس فیصد تک ہیں۔
امریکی سینیٹر برنارڈ سینڈرز نے حال ہی میں دنیا کو خبردار کیا ہے کہ غیر کنٹرول شدہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی انسانی تہذیب اور بقا کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کے صف اول کے محققین اور سائنسدان اس ٹیکنالوجی کے بے قابو ہونے پر شدید خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل مختلف اداروں کے اندرونی حالات اور ماہرین کے بیانات نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا یہ ایجاد انسانیت کے لیے فلاح کا باعث بنے گی یا تباہی کا۔ اس ضمن میں معروف اے آئی محقق اور گوڈفادر کہلانے والے جیفری ہنٹن نے ایک انتہائی تشویشناک پیشگوئی کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل میں انسانیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے امکانات کم از کم دس فیصد تک موجود ہیں۔ یہ بات انہوں نے हाल ہی میں مختلف میڈیا رپورٹس اور انٹرویوز کے دوران کہی، جس نے تکنیکی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ جیفری ہنٹن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو قانون کے دائرے میں نہ لایا گیا تو یہ انسانی قابو سے باہر ہو جائے گی۔ اسی طرح کی تشویش کا اظہار معروف ادارے اینتھروپک کے ایک محقق نے بھی کیا ہے جنہوں نے حال ہی میں 'آؤٹ آف کنٹرول' اے آئی کے خوف سے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ جس تیزی سے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو طاقتور بنایا جا رہا ہے، اس سے انسانوں کی بقا کو براہ راست خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ مختلف مالیاتی اور تکنیکی جریدوں نے بھی اس دوڑ کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جوا قرار دیا ہے جہاں تخلیق کار خود اپنے بنائے ہوئے نظام سے خوفزدہ دکھائی دے رہے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات اور سیاستدان اب عالمی سطح پر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی تحقیق اور ترقی کو سخت ضابطہ اخلاق کے تحت لایا جائے۔ اگر اس ٹیکنالوجی کو فوری طور پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر ریگولیٹ نہ کیا گیا، تو آنے والے برسوں میں دنیا کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ برنارڈ سینڈرز اور دیگر اہم شخصیات کا یہ انتباہ وقت کا تقاضا ہے کہ ٹیکنالوجی کے انمٹ اثرات سے نمٹنے کے لیے اب عملی اقدامات کیے جائیں۔