LIVE
Loading Breaking News...

فرانس میں ٹرین حادثہ، تخریب کاری کے شواہد کی جانچ پڑتال

News Image
فرانسیسی حکام نے مسافر ٹرین کے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جہاں پٹری پر ریل کا ایک ٹکڑا ملا تھا۔ اس حادثے کے نتیجے میں چوالیس افراد زخمی ہوئے تھے جنہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
فرانسیسی حکام نے حال ہی میں پیش آنے والے ایک مسافر ٹرین کے خطرناک حادثے کی گہرائی سے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ واقعہ کسی مجرمانہ یا تخریب کاری کی کارروائی کا نتیجہ تو نہیں تھا۔ جمعہ کے روز پیش آنے والے اس حادثے کے نتیجے میں کم از کم چوالیس افراد زخمی ہو گئے تھے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر کے طبی امداد دی گئی۔ ابتدائی طور پر حادثے کی تکنیکی وجوہات پر غور کیا جا رہا تھا، تاہم اب تفتیش کاروں کا رخ اس بات کی طرف بھی ہو گیا ہے کہ کیا اس کے پیچھے کوئی گھناؤنی سازش تھی۔ تفتیش سے وابستہ ذرائع کے مطابق، حادثے کی جگہ کا معائنہ کرنے کے دوران ریلوے کی پٹری پر سے ریل کا ایک ٹکڑا برآمد ہوا ہے جس نے حکام کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس ٹکڑے کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شاید پٹری کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا تھا تاکہ ٹرین کو حادثے سے دوچار کیا جا سکے۔ ماہرین اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ ٹکڑا قدرتی طور پر ٹوٹ کر وہاں گرا تھا یا اسے کسی خاص مقصد کے تحت پٹری پر رکھا گیا تھا تاکہ ٹرین پٹری سے اتر جائے۔ اس واقعے کے بعد فرانس بھر میں ریلوے سیکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں اور مسافروں کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام ممکنہ زاویوں سے ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کا بغور تجزیہ کر رہی ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کا عزم ہے کہ وہ جلد ہی اس حادثے کی اصل حقیقت تک پہنچ جائیں گے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔