LIVE
Loading Breaking News...

فرانسیسی شیمپین کی طاقت میں اضافہ، ریکارڈ گرمی کے اثرات

News Image
فرانس میں پڑنے والی شدید گرمی کی لہر نے انگوروں کی پیداوار اور معیار پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ غیر معمولی طور پر میٹھے انگوروں کی کٹائی کے بعد اب شیمپین میں الکوحل کی مقدار پندرہ فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
فرانس میں حالیہ برسوں کے دوران پڑنے والی ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں نے نہ صرف ماحول اور زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے زرعی شعبے، خاص طور پر دنیا بھر میں مشہور شیمپین کی صنعت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے اس بارانگوروں کی ایک غیر معمولی فصل سامنے آئی ہے جس میں مٹھاس کی مقدار توقع سے کہیں زیادہ ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر شیمپین کی تیاری پر پڑا ہے اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس بار تیار ہونے والی شیمپین میں الکوحل کی مقدار پندرہ فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ انگور کے باغات کے مالکان اور ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کی تیز روشنی اور طویل عرصے تک رہنے والی گرمی نے انگوروں کو معمول سے زیادہ پکنے میں مدد دی ہے۔ جب انگور زیادہ پکتے ہیں تو ان کے اندر قدرتی شکر کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو بعد میں خمیر بننے کے عمل کے دوران الکوحل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس غیر معمولی تبدیلی نے وائن بنانے والے کسانوں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ روایتی طور پر شیمپین میں الکوحل کی اتنی زیادہ مقدار شاذ و نادر ہی دیکھی گئی تھی۔ اس پیش رفت نے شیمپین انڈسٹری کے لیے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا اس تبدیلی سے مشروب کے ذائقے اور معیار میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی یا نہیں۔ اگرچہ کچھ ماہرین اسے موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا تسلسل قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ پروڈیوسرز اسے ایک منفرد تجربے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ شیمپین کے روایتی ذائقے کو برقرار رکھنا اب کسانوں اور مینوفیکچررز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، کیونکہ صارفین ایک خاص معیار کی توقع رکھتے ہیں۔ اس صورتحال نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں کس طرح دنیا بھر کے روایتی کاروباروں اور پیداوار کے طریقوں کو تیزی سے بدل رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ فرانسیسی شیمپین کے برانڈز اس نئی پیداوار کو کس طرح مارکیٹ میں پیش کرتے ہیں اور عالمی سطح پر اس کا کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔