LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا متحدہ آئرلینڈ سے متعلق بیان اور برطانوی مؤقف

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورہ آئرلینڈ کے موقع پر ایک متحدہ آئرلینڈ کے قیام کو شاندار قرار دیا ہے۔ دوسری جانب برطانوی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شمالی آئرلینڈ کے برطانیہ سے الگ ہونے کے لیے فی الحال خاطر خواہ عوامی حمایت موجود نہیں ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک دورے کے دوران آئرلینڈ کے مستقبل کے حوالے سے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک متحدہ آئرلینڈ کا قیام ایک شاندار اور مثبت قدم ہوگا۔ ان کے اس بیان نے بین الاقوامی اور علاقائی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، کیونکہ آئرش جزیرے کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مختلف حلقوں میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو آئرش قوم پرست حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے جبکہ اس پر مختلف ردعمل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس بیان کے فوراً بعد برطانوی سیاسی حلقوں کی طرف سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے جس میں صورتحال کا دوسرا رخ پیش کیا گیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے واضح کیا ہے کہ اس بات کے فی الحال کافی شواہد یا عوامی حمایت موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ شمالی آئرلینڈ برطانیہ سے الگ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ شمالی آئرلینڈ کی اکثریت فی الحال برطانیہ کے ساتھ رہنے کی حامی ہے اور علیحدگی کے لیے مطلوبہ عوامی مینڈیٹ یا جذبہ ابھی اس پیمانے پر موجود نہیں ہے۔ شمالی آئرلینڈ کی سیاسی تاریخ پیچیدہ رہی ہے اور یہاں کے عوام کی شناخت اور سیاسی مستقبل کا معاملہ ہمیشہ سے انتہائی حساس نوعیت کا حامل رہا ہے۔ گڈ فرائیڈے معاہدے کے بعد سے اس خطے میں امن قائم ہے اور آئینی مستقبل کا فیصلہ جمہوری عمل اور ریفرنڈم سے مشروط کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیرونی بیانات خطے کی داخلی سیاست اور نازک توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، تاہم زمینی حقائق کا انحصار وہاں کے مقامی عوام کی رائے پر ہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بحث کے مزید طول پکڑنے کا امکان ہے کیونکہ برطانوی حکومت اپنی آئینی حیثیت پر قائم ہے جبکہ آئرلینڈ کے بعض سیاسی حلقے طویل مدتی طور پر اتحاد کے خواہاں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر سرحدی اور علاقائی تنازعات پر بحث جاری ہے، لیکن شمالی آئرلینڈ کے عوام کے لیے فیصلہ کن عنصر مقامی سطح پر ہونے والی سیاسی اور سماجی تبدیلیاں ہی ہوں گی۔