LIVE
Loading Breaking News...

انگلینڈ بمقابلہ پاکستان: تیسرا ٹیسٹ میچ اور سیریز کا احوال

News Image
انگلینڈ کی ٹیم نے ایجبیسٹن ٹیسٹ میں مشکلات پر قابو پاتے ہوئے پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی اور تین میچوں کی سیریز میں کلینsweep مکمل کر لیا۔ پاکستانی ٹیم کے ناتجربہ کار کھلاڑیوں نے عمدہ مزاحمت کی کوشش کی لیکن انگلینڈ نے ہدف باآسانی حاصل کر لیا۔
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے ایجبیسٹن میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں مشکلات کے باوجود پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 0-3 سے کلین sweep مکمل کر لیا۔ انگلینڈ کو فتح کے لیے صرف 130 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن دوسری اننگز کے آغاز پر ہی میزبان ٹیم کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب محمد عباس نے پہلی ہی اوور میں دونوں اوپنرز بین ڈکٹ اور ایملیو گے۔ کو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد جو روٹ اور جارڈن کاکس نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو بحران سے نکالا اور ہدف 25 ویں اوور میں پورا کر لیا۔ جو روٹ 62 اور جارڈن کاکس 59 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ میچ کے دوران پاکستان کی طرف سے ڈیبیو کرنے والے نوجوان فاسٹ بولر رضاء اللہ نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ جمعہ کے روز انگلینڈ کی ٹیم تین دن میں فتح کے قریب دکھائی دے رہی تھی جب رضاء اللہ نے نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے شاندار اننگز کھیلی اور نو چھکوں کی مدد سے 63 گیندوں پر 81 رنز بنائے۔ انہوں نے محمد عباس کے ساتھ مل کر نویں وکٹ کے لیے 121 رنز کی شراکت داری قائم کی جس نے میچ کا نقشہ بدلنے کی کوشش کی۔ تاہم پاکستان کی پہلی اننگز کے صرف 133 رنز پر ڈھیر ہو جانے کے باعث یہ کوشش ناکافی ثابت ہوئی اور ٹیم کو سیریز میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انگلش کپتان جو روٹ نے پاکستانی کھلاڑیوں کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے ہمیں سخت وقت دیا جو کہ ٹیم کے لیے ایک اچھا تجربہ رہا۔ دوسری طرف پاکستانی کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ پہلی اننگز میں خراب کارکردگی اور آسان وکٹیں گنوانا شکست کی بڑی وجہ بنی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے پر نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کے حریف کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا جس سے انہیں مستقبل کے لیے کافی کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔ واضح رہے کہ اس سیریز کے دوران پاکستانی ٹیم کو کئی انتظامی اور فیلڈ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس میں ہیڈ کوچ اور اسسٹنٹ کوچ کی برطرفی اور متعدد کھلاڑیوں کی تبدیلی شامل تھی۔ اس وائٹ واش کے بعد انگلینڈ کی ٹیم کا مورال بلند ہوا ہے جبکہ پاکستان کو اپنی آئندہ سیریز سے قبل ٹیم کی کارکردگی پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔