LIVE
Loading Breaking News...

پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے مذاکرات

News Image
پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رابطہ کار کمیٹی کے اجلاس میں دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران دونوں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے ماضی کے فیصلوں پر عمل درآمد اور باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ورکنگ ریلیشن شپ میں موجود کشیدگی کو ختم کرنے اور اہم امور پر پائے جانے والے تحفظات کو دور کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کی رابطہ کار کمیٹیوں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابی مہم کے دوران دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان تعلقات میں کافی تلخی آ گئی تھی اور عوامی سطح پر بھی دونوں فریقین ایک دوسرے پر تنقید کرتے دکھائی دیے تھے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت میں قائم موجودہ حکومت کو قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی حمایت کی بدولت دو تہائی اکثریت حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود پالیسی معاملات پر دونوں اتحادیوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان دیکھا جا رہا تھا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے وفد نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ن لیگ کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو سیاسی میدان میں بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، کسانوں کے مسائل، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تاخیر جیسے معاملات پر حکومت کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے اور بحیثیت اتحادی ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔ دوسری جانب، مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود اکثر اپوزیشن کی طرح رویہ اختیار کرتی ہے اور عوامی مسائل پر سیاست چمکانے کی کوشش کرتی ہے، حالانکہ مہنگائی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں جیسے امور پر حکومت کا براہ راست کنٹرول نہیں ہوتا۔ اجلاس میں پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو بھی خصوصی طور پر طلب کیا گیا تاکہ پولیس کے معاملات سے متعلق پیپلز پارٹی کے تحفظات کا ازالہ کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران ماحول بعض اوقات کشیدہ بھی ہوا اور دونوں فریقین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، تاہم سیاسی مجبوریوں اور نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں جماعتوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ تمام تر اختلافات کے باوجود دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک کو اس وقت شدید سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔ اجلاس کے اختتام پر یہ طے پایا کہ ماضی میں کیے گئے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا، باہمی رابطوں کو مزید باقاعدہ بنایا جائے گا اور تمام متنازعہ امور کو باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا تاکہ وفاقی سطح پر حکومتی اتحاد کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔