LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان میں دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے: سرفراز بگتی

News Image
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگتی نے واضح کیا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کسی صورت مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پوری عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔
کوئٹہ: بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگتی نے ہفتے کے روز دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے عناصر کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے ویڈیو لنک کے ذریعے ملک کے سینئر صحافیوں، میڈیا اینکرز اور دیگر نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے اور ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سکیورٹی فورسز اور سول و عسکری قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک صفحے پر ہیں اور اس معاملے میں کسی قسم کا ابہام یا کنفیوژن موجود نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ کوئٹہ میں بیٹھ کر پورے صوبے کے حالات کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ سکیورٹی فورسز انتہائی مشکل حالات میں اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہی ہیں اور تمام ریاستی ادارے اس ضمن میں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو سے قبل سرفراز بگتی کو صوبائی حکومت کی سماجی و اقتصادی ترقی، گورننس، ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ وزارتِ داخلہ اور قبائلی امور کے حکام نے وزیراعلیٰ کو صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، پروونشل ایکشن پلان، پولیس اصلاحات اور لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ معدنیات اور کان کنی کے شعبے کے حوالے سے جاری ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کے بہتر استعمال کے امور پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ صوبائی وزیر نے نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر بلوچستان میں نئی صوبے بنانے کی بات کی جائے تو وہ لسانی بنیادوں کی بجائے خالصتاً انتظامی بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بلوچستان کے لیے کسی ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کے بارے میں کوئی علم نہیں رکھتے، حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے اور ان کی کابینہ اس وقت تک عوام کی خدمت جاری رکھے گی۔ کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سرفراز بگتی نے تسلیم کیا کہ وہ یہ دعویٰ تو نہیں کرتے کہ کرپشن کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے، تاہم ماضی کے مقابلے میں اس میں نمایاں کمی آئی ہے اور سرکاری اداروں سمیت تعلیمی شعبے میں بھی میرٹ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے غیر ملکیوں کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان سے ۱۱ لاکھ افغان مہدیوں سمیت دیگر غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو بعض اوقات بغیر درست سیاق و سباق کے پیش کیا جاتا ہے۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے جس کے خاتمے کے لیے اجتماعی قومی کوششوں کی ضرورت ہے۔