LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع میں افسران کے لیے خصوصی سکیورٹی الاؤنس منظور

News Image
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع کو دہشت گردی سے متاثرہ قرار دیتے ہوئے وہاں تعینات پی اے ایس اور پی ایس پی افسران کے لیے ڈھائی سو فیصد تک خصوصی سکیورٹی الاؤنس کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور افسران کو درپیش سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع کو دہشت گردی سے متاثرہ قرار دیتے ہوئے وہاں تعینات پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کے لیے 'ایکسٹرا آرڈینری لاء اینڈ آرڈر اینڈ سکیورٹی رسک الاؤنس' کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ یکم جولائی سے نافذ العمل ہوگا اور اس کا مقصد سکیورٹی خدشات اور چیلنجز کے درمیان فرائض انجام دینے والے افسران کو مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق خیبر پختونخوا کے کل 35 میں سے 26 اضلاع میں تعینات افسران کو رننگ بیس کا ڈھائی سو فیصد الاؤنس دیا جائے گا۔ ان اضلاع میں پشاور، خیبر، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، مہمند، کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹینک، اپر اور لوئر جنوبی وزیرستان، سوات، بونیر، شانگلہ، باجوڑ، اپر اور لوئر دیر کے علاوہ اپر اور لوئر چترال شامل ہیں۔ دوسری جانب سوات اور ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع بشمول ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، کولائی پالس اور کوہستان کو اس الاؤنس کے دائرہ کار سے خارج کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ الاؤنس ان افسران کو دیا جائے گا جو وزارت داخلہ کی جانب سے سالانہ بنیادوں پر جاری کردہ فہرست کے مطابق سنجیدہ نوعیت سے متاثرہ اضلاع میں تعینات ہوں گے۔ الاؤنس کی ادائیگی کا عمل متعلقہ صوبائی حکومت کے ذریعے یکم جولائی سے شروع کیا جائے گا۔ اس الاؤنس کے حوالے سے ضابطہ کار بھی واضح کر دیے گئے ہیں جن کے تحت کسی بھی نوٹیفائیڈ ضلع سے افسر کا تبادلہ ہونے پر یہ الاؤنس ختم کر دیا جائے گا۔ مزید برآں، یہ الاؤنس پنشن یا گریجوٹی کے حساب کتاب میں شامل نہیں کیا جائے گا اور اس پر آنے والے تمام اخراجات وفاقی حکومت خود برداشت کرے گی۔ خیبر پختونخوا میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق صوبے میں سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے جس کی وجہ سے ریاست نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔