Business
انٹر بینک میں ڈالر اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ کاروباری حلقوں اور تاجروں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ملکی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے حالیہ اطلاعات کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے نرخ کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات براہ راست ملکی مارکیٹ پر پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے عام صارف اور کاروباری طبقہ مشکلات کا شکار ہے۔
حکومت نے عالمی مارکیٹ کے رجحانات کا حوالہ دیتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے سے زائد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں بھی فی لیٹر اسی تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کو ایڈجسٹ کرنا ہے، تاہم اس سے مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، ملک کے تجارتی اور کاروباری حلقوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تسلسل سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، جس سے پہلے ہی مہنگائی کے ستائے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کو قابو کرنے کے لیے طویل المدتی اور پائیدار معاشی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے توانائی کے شعبے میں سدِ باب کیا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور عام آدمی کو بھی سکھ کا سانس مل سکے۔