AI
اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو امودی کا مصنوعی ذہانت کی ترقی سست کرنے کا مطالبہ
مصنوعی ذہانت کے معروف ادارے اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو امودی نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کی موجودہ تیز رفتار ترقی انسانیت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کی دوڑ کو سست کرنے اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری تیز رفتار دوڑ کے درمیان، معروف اے آئی ادارے 'اینتھروپک' کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو امودی نے اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو سست کرنے کا انتہائی اہم مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تیار کیے جا رہے ہیں، وہ نہ صرف سائنسی بلکہ معاشرتی اور اخلاقی لحاظ سے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صنعت سے وابستہ تمام اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ صرف رفتار اور مقابلے پر مرکوز رکھنے کے بجائے سکیورٹی پروٹوکول اور حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے پر دیں۔
حالیہ ہفتوں میں اے آئی انڈسٹری کے اندر اندرونی اختلافات اور خدشات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اینتھروپک کے کچھ محققین نے بھی ٹیکنالوجی کے بے قابو ہونے اور انسانی بقا کو لاحق ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان محققین کا ماننا ہے کہ اگر اے آئی ماڈلز کی ترقی کی رفتار یہی رہی تو مستقبل قریب میں انسانیت کو ایسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن سے نمٹنا ناممکن ہو گا۔ ان انکشافات کے بعد دنیا بھر کے ماہرین اور سائنسی حلقوں میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا موجودہ ریگولیٹری فریم ورک اس جدید ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔
ڈاریو امودی کے اس بیان کے بعد دنیا بھر کے قانون سازوں اور پالیسی سازوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک میں قانون ساز ادارے اب مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سخت ضوابط اور نئے قوانین متعارف کرانے کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی ترقی میں توازن قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد بھی حاصل کیے جا سکیں اور اس کے منفی اثرات سے انسانیت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اینتھروپک کے سربراہ کا یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ خود اس صنعت کے بانی بھی اب اس کے طویل المدتی نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنے لگے ہیں۔