Business
امریکی تیل سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا اثر
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج فارس میں جاری لڑائی کے نتیجے میں امریکی تیل کی قیمتیں ایک سو دو ڈالر فی بیرل سے اوپر بند ہوئیں۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل، گیس اور قرض لینے کی لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں توانائی کے بحران میں اس وقت شدت آ گئی جب خلیج فارس میں جاری لڑائی کے پیش نظر امریکی تیل کی قیمتیں ایک سو دو ڈالر فی بیرل سے زائد پر بند ہوئیں۔ مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی خدات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات براہ راست عالمی مالیاتی منڈیوں پر پڑ رہے ہیں، جس سے تیل، گیس اور مجموعی طور پر قرض لینے کی لاگت میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں تازہ ترین حملوں اور کشیدگی کے تسلسل نے سرمایہ کاروں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور حالیہ حملوں کے بعد تیل کی برآمدات اور ترسیل کے راستوں سے متعلق خدات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں جہاں ایک طرف خام تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، وہیں پیٹرول اور دیگر ایندھن کی قیمتیں بھی تیزی سے اوپر چلی گئی ہیں جس کا براہ راست بوجھ عام صارفین پر پڑ رہا ہے۔ جمعے کے روز اگرچہ قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی، تاہم ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتوں میں بہت بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خلیج فارس میں جاری تنازعہ مزید ط طول پکڑتا ہے تو عالمی سطح پر مہنگائی کی لہر مزید شدید ہو سکتی ہے۔ توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سپلائی چین میں تعطل کے باعث آنے والے دنوں میں صنعتی پیداوار اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومتیں اور عالمی ادارے اس بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاکہ مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے اور تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔