LIVE
Loading Breaking News...

ایران جنگ اور ٹرمپ انتظامیہ: پروپیگنڈا، پولی گراف اور اندرونی کشمکش

News Image
موجودہ حالات میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایران جنگ کی تشہیر کرنا انتہائی چیلنجنگ بن چکا ہے۔ اس معاملے پر اندرونی سطح پر صفائی، پولی گراف ٹیسٹ اور پروپیگنڈا کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب واشنگٹن کے اندرونی سیاسی منظر نامے میں بھی ایک پیچیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اس ممکنہ یا جاری تنازع کو عوامی سطح پر 'فروخت' کرنا یعنی اس کی حمایت حاصل کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ انتظامیہ کے اندر پالیسیوں کے نفاذ اور بیانیے کی تشکیل میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جن پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کے اندرونی حلقوں میں صفائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ پالیسی سازوں اور عہدیداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ حساس معلومات کے لیک ہونے کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں بعض اہم محکموں میں پولی گراف ٹیسٹ اور دیگر جانچ پڑتال کے سخت طریقے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ حکام کی یہ کوشش ہے کہ جنگ یا تنازع کے حق میں ایک یکساں اور مضبوط بیانیہ پیش کیا جا سکے۔ تاہم، عوام اور کانگریس کے اندر اس جنگی حکمت عملی کے خلاف شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تنازع کو جواز فراہم کرنے کے لیے کیے جانے والے پروپیگنڈا کے اثرات منفی ہو رہے ہیں اور امریکی عوام اس قسم کی مہم جوئی کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے۔ انتظامیہ کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر سخت چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ میڈیا اور سیاسی حریف اس پالیسی پر مسلسل سوالات اٹھا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے معاشی اور سیاسی اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا امتحان اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ اپنے اس مؤقف کو عوام کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کر سکے، جو کہ موجودہ سیاسی ماحول میں ایک انتہائی کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔