Health
یونان: 22 سال پرانے منجمد ایمبریو سے بچے کی پیدائش
یونان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے نے جدید طبی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایسے بچے کو خوش آمدید کہا ہے جس کا ایمبریو بائیس سال تک منجمد حالت میں رکھا گیا تھا۔ اس طبی کامیابی نے تولیدی سائنس اور فرٹیلیٹی کے شعبے میں نئے سنگ میل عبور کر لیے ہیں۔
یونان میں طبی دنیا کا ایک انتہائی حیرت انگیز اور منفرد واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک جوڑے نے بائیس سال تک انتہائی سردی میں منجمد (Frozen) رکھے گئے ایمبریو کی مدد سے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا ہے۔ اس کامیابی نے تولیدی سائنس اور فرٹیلیٹی کے شعبے میں کام کرنے والے ماہرین کو بھی دنگ کر دیا ہے اور اسے جدید میڈیکل ہسٹری کا ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس طویل عرصے تک ایمبریو کو محفوظ بنانے کے لیے جدید ترین کریو پرزرویشن (Cryopreservation) تکنیک کا استعمال کیا گیا تھا۔ جب متعلقہ جوڑے نے اس پرانے ایمبریو کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تو طبی ٹیم نے تمام ضروری حفاظتی اور سائنسی مراحل کو احتیاط کے ساتھ مکمل کیا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اتنے طویل عرصے تک ایمبریو کا قابلِ استعمال رہنا اور پھر اس سے کامیاب حمل کا نتیجہ آنا سائنس کی ایک بہت بڑی فتح ہے۔
اس کامیاب پیدائش کے بعد یونانی طبی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ اس سے ان بے اولادہ جوڑوں کے لیے امید کی نئی کرن پیدا ہوئی ہے جو طویل عرصے سے اپنے ایمبریو محفوظ کرواتے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر جدید ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کیا جائے تو برسوں پرانے جینیاتی نمونے بھی بالکل درست حالت میں بحال کیے جا سکتے ہیں۔
اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بھی طبی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے اور اب اس بات پر بحث کی جا رہی ہے کہ ایمبریو کو محفوظ رکھنے کی زیادہ سے زیادہ مدت کیا ہو سکتی ہے۔ اس کامیابی کے بعد دنیا بھر میں آئی وی ایف اور فرٹیلیٹی کے علاج کے حوالے سے ایک بار پھر مثبت بحث شروع ہو گئی ہے اور عام لوگ بھی اس حیرت انگیز طبی کارنامے پر شدید حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔