LIVE
Loading Breaking News...

مکہ معاہدہ اور حوثی حملے: پاکستان اور ترکی کا ممکنہ کردار

News Image
حوثی حملوں کے پس منظر میں سعودی عرب کی کسی بھی درخواست پر پاکستان اور ترکی مداخلت کر سکتے ہیں۔ تاہم، یمنی جنگ میں کسی بھی قسم کی براہ راست فوجی شمولیت کا امکان اب بھی کم نظر آتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور حوثی باغیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر عالمی اور خطے کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس صورتحال میں 'مکہ معاہدہ' کی فعالیت اور اس کے تحت مسلم دنیا کے اہم ممالک کے مابین تعاون کے امکانات پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ اگرچہ خطے میں سکیورٹی کے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں، لیکن سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے خطے کے بڑے ممالک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اگر سعودی عرب کی جانب سے باضابطہ کوئی درخواست سامنے آتی ہے تو پاکستان اور ترکی اس معاملے پر سفارتی اور سکیورٹی سطح پر مداخلت یا ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دونوں برادر ممالک کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ اور مضبوط دفاعی تعلقات ہیں، جو خطے میں امن کے قیام کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس پس منظر میں، مکہ معاہدے کے تحت ہونے والے تفاہمات کو بروئے کار لانے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے تاکہ مسلم امہ کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ تاہم، اس تمام صورتحال کے باوجود یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ یمن کی طویل اور پیچیدہ جنگ میں پاکستان یا ترکی کی جانب سے کسی بھی قسم کی براہ راست فوجی شمولیت کا امکان تحال کم ہی ہے۔ دونوں ممالک خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور تنازعات کے پرامن حل کے حامی ہیں، اس لیے ان کا بنیادی فوکس عسکری مداخلت کے بجائے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے پر ہوگا۔